مکہ معاہدہ کے کوئی جارحانہ مقاصد نہیں ، یہ تینوں ملکوں میں پہلے سے موجود تعاون کا تسلسل : شہباز شریف

 مکہ معاہدہ کے کوئی جارحانہ مقاصد  نہیں ، یہ تینوں ملکوں میں پہلے سے موجود تعاون کا تسلسل : شہباز شریف

کابینہ اجلاس میں شہباز شریف ، ڈار،فیلڈ مارشل عاصم منیر کو خراج تحسین کی قرار داد منظور،مہاجر نشستوں پرآزاد کشمیر کی نئی حکومت مذاکرت کریگی :وزیراعظم ریونیو ہدف کے حصول کے لیے اقدامات تیز کیے جائیں ،چیئرمین ایف بی آر ہر ماہ لاہور میں بھی دو دن قیام کریں:اصلاحات پر عملدرآمد سمیت انفورسمنٹ اقدامات تیز کرنے کی ہدایت

 اسلام آباد (نامہ نگار،دنیا نیوز،اے پی پی ) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مکہ معاہدہ کے قطعاً کوئی جارحانہ مقاصد نہیں، یہ صرف اور صرف دفاعی مقاصد اور خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی کے فروغ کیلئے ہے ، مسلم امہ کیلئے یہ معاہدہ باعث تقویت ہے ، برسوں سے اس کیلئے کاوشیں ہورہی تھیں، فتنہ الخوارج کیخلاف کارروائیاں جاری ہیں، وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ مہاجرین نشستوں پر مذاکرات کا سلسلہ آزاد کشمیر کی نئی حکومت کے معرض وجود میں آنے کے بعد آگے بڑھے گا،مسلم لیگ ن آزاد جموں و کشمیر میں اکثریتی جماعت بن کر ابھری، ترقی و خوشحالی کا سفر شروع ہوگا، لاقانونیت اور انارکی کی اجازت نہیں دیں گے ، پیشکش کی تھی کہ نئی اسمبلی میں مقدمہ لے کر جائیں، اکثریت سے مہاجرین کی نشستوں کا فیصلہ کریں گے ، جو امن کیساتھ بات چیت کرنا چاہے اس کیلئے موقع فراہم کیا جائے گا ۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین دفاعی معاہدہ طے پایا جس پر سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور میں نے دستخط کیے ۔انہوں نے کہا کہ دہائیوں سے پاکستان سعودی عرب کے ساتھ مل کر حرمین شریفین کی حفاظت کا فریضہ نبھاتا رہا ہے ، گزشتہ سال اس سلسلے میں باقاعدہ معاہدہ طے پایا تھا ، اسی معاہدے کی توسیع ہوئی ہے ، تینوں ممالک کے درمیان یہ معاہدہ خطے میں امن، سلامتی اور خوشحالی کے لئے ہے ، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان بھی دہائیوں پر محیط تعاون موجود ہے۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ دفاعی معاہدہ پہلے سے موجود تعاون کا تسلسل ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ حرمین شریفین کے تحفظ کی ذمہ داری پاکستان کے عوام اور افواج کے لئے اہم فریضہ ہے ، انہوں نے واضح کیا کہ سہ فریقی دفاعی معاہدہ کسی کے خلاف قطعاً جارحیت نہیں، یہ صرف اور صرف دفاعی مقاصد اور خطے کے امن ترقی اور خوشحالی کیلئے ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ معاہدہ امت مسلمہ کے لئے باعث تقویت ہے ۔ وزیراعظم نے معاہدے کے لئے سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں کو سراہا،انہوں نے کہا کہ یہ کئی برسوں کی کاوشوں کا نتیجہ ہے ۔ وزیراعظم نے وطن عزیز سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے قومی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں نے بعض علاقوں میں دہشت گردی کا بازار گرم کیا ۔ مختلف واقعات میں ہمارے پولیس اور افواج پاکستان کے آفیسرز اور جوان شہید ہوئے ۔ ہنگو، سوات اور دیگر علاقوں میں سکیورٹی فورسز کے جوانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ۔ انہوں نے میجر حافظ احسان الٰہی، کیپٹن حمزہ اکرم، ڈی ایس پی دیار خان سمیت تمام شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے بہادر سپوتوں نے عظیم قربانیاں دی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ انہوں نے مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دیرینہ رفیق اقبال چنڑ کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا۔

دریں اثنا وفاقی کابینہ نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کر لی ہے جس میں وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ان کی مدبرانہ اور دور اندیش قیادت، پاکستان کا عالمی تشخص بلند کرنے اور ملک کے قومی مفادات کے مو ثر دفاع پر خراج تحسین پیش کیا گیا۔ کابینہ ارکان نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کو اہم سفارتی و دفاعی پیش رفت قرار دیا۔ وزیراعظم نے کابینہ کو بتایا کہ آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات میں عوام نے مسلم لیگ ن پر اعتماد کا اظہار کیا ہے ، پہلے دو مراحل میں مسلم لیگ ن کو واضح کامیابی ملی ہے ، انتخابی نتائج قائد محمد نواز شریف کی قیادت پر اعتماد کا اظہار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن آزاد کشمیر ایک بار پھر ترقی اور خوشحالی کا سفر شروع کرے گی،وزیر اعظم نے کہا کہ کسی بھی مہذب معاشرے میں لاقانونیت کی اجازت نہیں دی جا سکتی، مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے نکالا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بعض عناصر نے آزاد کشمیر کے حالات جان بوجھ کر خراب کرنے کی کوشش کی، واضح ثبوت موجود ہیں کہ وہ اغیار کے اشاروں پر کام کر رہے تھے ۔ الیکشن سے قبل مظفر آباد میں آل پارٹیز کانفرنس جس میں ایک کے سوا تمام جماعتیں موجود تھیں، میں معاملات پر ہر پہلو سے گفتگو ہوئی۔ تجویز دی گئی کہ مہاجرین کی نشستوں کے حوالے سے انتخابات کے بعد نو منتخب اسمبلی میں اپنا مقدمہ لیکر آئیں، جو اکثریت سے آئین و قانون کے مطابق فیصلہ ہوگا اسے قبول کیا جائے گا، تمام باتیں طے ہوگئیں لیکن وہ اڑے رہے ، بے جا ضد سے معاملات خراب ہوگئے۔

وزیراعظم نے کہا کہ مذاکرات کا سلسلہ نئی حکومت کے معرض وجود میں آنے کے بعد آگے بڑھے گا، جو لوگ تُلے ہیں کہ صرف خرابی کرنی ہے ان کو انارکی و بدامنی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی لیکن جو امن ، تحمل اور برداشت کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتے ہیں نئی حکومت ان کیلئے موقع فراہم کرے گی ۔ دریں اثنا ایف بی آر میں جاری اصلاحات پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے ایف بی آر اصلاحات پر عملدرآمد مزید تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ کا روباری برادری کے جاری ٹیکس اصلاحات پر بڑھتے اعتماد کا خیرمقدم کر تے ہیں۔ چیئرمین ایف بی آر اور سینئر افسر ہر ماہ کراچی کے ساتھ لاہور میں بھی دو روز قیام کریں،ریونیو ہدف کے حصول کے لیے انفورسمنٹ اقدامات تیز کئے جائیں،وزیراعظم نے ایف بی آر کو سمگلنگ، ٹیکس چوری اور غیر قانونی کاروبار کے خلاف مؤثر انفورسمنٹ جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے چکوال اور صوابی میں سگریٹ سازی کی غیر قانونی فیکٹریوں کے خلاف اقدامات کی تعریف کی، وزیراعظم نے کہاکہ فیس لیس نظام کا مکمل رول آؤٹ 2027 تک یقینی بنایا جائے۔

علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے جولائی 2026 میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے 3 اعشاریہ 6 ارب ڈالر ترسیلات زر بھیجنے پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے کہا کہ سمندر پار پاکستانیوں کی طرف سے سالانہ بنیاد پر 13فیصد اضافی ترسیلات زر موصول ہوئیں جو نہایت خوش آئند ہے ۔ وزیراعظم نے سمندر پار پاکستانیوں کی ملکی معیشت کے استحکام اور ترقی میں تواتر سے مثبت کردار کو لائق تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ سمندر پار پاکستانی ہمارے قومی معاشی دھارے کا بیش قدر جزو ہیں۔ ادھر وزیراعظم سے پاکستان میں قازقستان کے سفیر نے الوداعی ملاقات کی، جس میں پاک قازقستان تعلقات اور دوطرفہ تعاون کے فروغ سمیت مختلف شعبوں میں شراکت داری بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا،شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان قازقستان کے ساتھ سٹرٹیجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے ۔ اقلیتوں کے قومی دن پر جاری اپنے پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان ہر سال ملک میں اقلیتوں کی موجودگی، قومی دھارے میں انکی شمولیت اور انکی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے قومی سطح پر اقلیتوں کا دن پُر عزم انداز میں مناتا ہے ۔پاکستان میں موجود اقلیتیں ہماری قومی اساس کا جُز خاص ہیں اور ہماری متنوع معاشرتی تہذیب کے حقیقی حسن کی آئینہ دار ہیں۔ ایکس پر جاری اپنے پیغام میں شہباز شریف نے ملائشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم کی صحت یابی کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے ،وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کے عوام بھی ان کی صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...