سندھ میں شدید گرمی، کھجور مزدور رات 2 بجے کام پر مجبور
روزانہ 1200روپے اجرت، کئی مزدور ہیٹ اسٹروک اور بے ہوشی کا شکار
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان دنیا میں کھجور پیدا کرنے والا پانچواں بڑا ملک ہے اور ہر سال 12 کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کی کھجوریں برآمد کرتا ہے ، تاہم سندھ میں شدید گرمی نے کھجور کے مزدوروں کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ باغات میں کام کرنے والے مزدور دن کی شدید گرمی سے بچنے کے لیے رات تقریباً 2 بجے کام شروع کرتے ہیں، وقفے کے بعد رات گئے تک کام جاری رکھتے ہیں۔مزدوروں کا کہنا ہے کہ ہر گزرتے سال کے ساتھ گرمی کی شدت بڑھنے سے کام مشکل ہوتا جا رہا ہے ۔ کھجور کا موسم جولائی میں شروع ہوتا ہے اور اس دوران سندھ میں درجہ حرارت 40 سے 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے ۔ ضلع خیرپور میں کھجور کے وسیع باغات ہیں، جہاں مزدور پھل اتارنے کے ساتھ کھجوریں بڑے کڑاہوں میں آگ پر ابالتے اور بعدازاں دھوپ میں خشک کرتے ہیں۔ خیرپور ملک کی نصف سے زائد کھجور پیدا کرتا ہے اور ہزاروں کسانوں و موسمی مزدوروں کا روزگار اس فصل سے وابستہ ہے ۔درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے پر مزدور محمد ادریس نے بتایا کہ ماضی میں گرمی اتنی شدید نہیں ہوتی تھی، اب حالات ناقابل برداشت ہو گئے ہیں۔ کئی مزدوروں نے بتایا کہ انہیں شدید گرمی کے باعث بے ہوشی، بخار اور دیگر طبی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، تاہم علاج کے بعد دوبارہ کام پر واپس آ جاتے ہیں۔مزدوروں کو انتہائی مشقت کے عوض روزانہ تقریباً 1200 روپے اجرت ملتی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ کھجوریں توڑ کر ٹرالیوں تک پہنچانے ، ابالنے اور خشک کرنے کا کام شدید گرمی میں کرنا پڑتا ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments