یورپ میں ریکارڈ گرمی، نصف درجن ممالک آتشزدگی سے نبرد آزما

یورپ میں ریکارڈ گرمی، نصف درجن ممالک آتشزدگی سے نبرد آزما

فرانس میں جنگلات میں آگ لگانے کے شبہ میں 500 گرفتار، 183 نابالغ شامل

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)فرانس میں موسم گرما کے آغاز سے اب تک جنگلات میں آگ لگانے کے شبہ میں تقریباً 500 افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔ برطانوی اخبار دی گارڈین* کے مطابق یہ کارروائیاں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب یورپ کے نصف درجن ممالک میں فائر فائٹرز شدید نوعیت کی آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ پورا براعظم ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر کی لپیٹ میں ہے ۔فرانس کی وزارت داخلہ کے مطابق یکم جولائی سے جنگلات میں آتشزدگی کے واقعات کے سلسلے میں 474 افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں 183 نابالغ بھی شامل ہیں۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد میں سے تقریباً 70 فیصد پر جان بوجھ کر جبکہ باقی پر حادثاتی طور پر آگ لگانے کا شبہ ہے ۔ جنوبی مغربی علاقے لینڈز کے گاؤں لوگلون سے 525 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، جہاں جنگل کی نئی آگ نے 24 گھنٹے سے بھی کم عرصے میں خشک پائن کے جنگل کے تقریباً 1100 ہیکٹر رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔مغربی جرمنی میں جنگل کی آگ گھروں کے قریب پہنچنے پر 2 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقام منتقل کیا گیا۔

کروشیا میں تیز ہواؤں کے باعث بھڑکنے والی آگ بحیرہ ایڈریاٹک کے ساحلی سیاحتی قصبے لوکوا روگوزنیکا تک پہنچ گئی، جس سے کئی گھر جل گئے ، تقریباً ایک ہزار افراد کو منتقل کرنا پڑا اور درجنوں افراد زخمی ہوئے ۔شمال مشرقی اسپین میں جنگلات کی آگ سے خانقاہ کو لاحق خطرے کے باعث فوجی اہلکاروں نے 11ویں صدی کے اراگون کے تین بادشاہوں کی باقیات سان خوان دے لا پینیا خانقاہ سے نکال کر قریبی شہر ہوسکا کے عجائب گھر منتقل کردیں۔ جنوبی اسپین کے صوبہ ہویلوا میں بھی آگ سے تقریباً 31 ہزار ہیکٹر رقبہ جل چکا ہے جبکہ 700 افراد کو گھروں سے منتقل ہونا پڑا۔برطانیہ کے ویسٹ مڈلینڈز میں جنگلات کی آگ تیزی سے پھیلنے سے کئی مکانات جل گئے ۔ شمالی یونان میں چھوٹی کشتیوں کے بیڑے نے تقریباً 500 سیاحوں کو ساحلوں سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ادھر جنوبی کوریا میں ریکارڈ گرمی سے فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے ۔ شمال مشرقی صوبے گانگ وون میں آلو زمین سے نکالنے سے پہلے ہی خراب ہوگئے جبکہ بڑی مقدار میں گوبھی بھی شدید گرمی کی نذر ہوگئی۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید موسمی واقعات زیادہ تواتر اور شدت کے ساتھ رونما ہو رہے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...