سندھ طاس معاہدہ مکمل نافذ العمل ، بھارت پابندی کرے : ثالثی عدالت

 سندھ طاس معاہدہ مکمل نافذ العمل ، بھارت پابندی کرے : ثالثی عدالت

بھارت کے پاس معاہدے کو معطل کرنیکا کوئی جواز نہیں ، عالمی بینک کا ماہر جولائی 2027 تک فیصلہ کرے گا کہ مقبوضہ کشمیر میں پن بجلی منصوبوں کی تعمیر معاہدے کے مطابق ہے یا نہیں:فیصلہ دیکھیں گے کہ فریقین کے درمیان دوبارہ بامعنی رابطے کی کیسے راہ ہموار ہوگی :پاکستان ، فیصلے کا خیر مقدم ، ہمارے اقدامات پر کوئی اثر نہیں ہو گا ، دو ٹوک مستر د کر تے ہیں : بھارتی ہٹ دھرمی

 ایمسٹرڈیم ( نیوز ایجنسیاں ) نیدر لینڈ زکے شہر دی ہیگ میں قائم مستقل ثالثی عدالت نے پیر کو کہا ہے کہ بھارت کو پاکستان کے ساتھ پانی کی تقسیم کے سندھ طاس معاہدے کی پابندی کرنا ہوگی، جسے نئی دہلی نے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کے دوران معطل کر دیا تھا۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کے علاقے میں زیرِ تعمیر ایک پن بجلی منصوبے پر کام کو معاہدے کی حدود میں رکھے ۔بھارت نے گزشتہ  سال اپریل میں سندھ طاس معاہدہ معطل کر دیا تھا۔ یہ معاہدہ پاکستان کے تقریباً 80 فیصد زرعی رقبے کو پانی کی فراہمی یقینی بناتا ہے ۔ بھارت نے گزشتہ سال مقبوضہ کشمیر کے علاقے میں 2 پن بجلی منصوبوں میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش بڑھانے کیلئے کام بھی شروع کیا تھا، جس کے بعد پاکستان نے قانونی کارروائی کی۔مستقل ثالثی عدالت نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر نافذ العمل ہے اور بھارت کے پاس اسے ختم یا معطل کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ عدالت نے کہا کہ بھارت کو معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی، جن میں مغربی دریاؤں پر اپنے پن بجلی منصوبوں کے ڈیزائن اور آپریشن سے متعلق ذمہ داریاں بھی شامل ہیں۔

عدالت نے کہا کہ عالمی بینک کی جانب سے مقرر کردہ ایک غیر جانبدار ماہر جولائی 2027 تک یہ فیصلہ کرے گا کہ مقبوضہ کشمیر میں پن بجلی منصوبوں کی تعمیر سندھ طاس معاہدے کے مطابق ہے یا نہیں۔پاکستان کے مطالبے سے اتفاق کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ انڈیا کو رتلے پن بجلی منصوبے میں ڈیم کی دیوار اور بجلی کے حصول کے ڈھانچے کو مخصوص سطحوں سے اوپر تعمیر کرنے کی اجازت نہیں ہے ، جب تک کہ غیر جانبدار ماہر کے فیصلے کے 90 دن مکمل نہ ہو جائیں۔ بھارت باضابطہ طور پر اس عدالت کا رکن ہے مگر اس کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کو تسلیم نہیں کرتا اور فیصلے کو دوٹوک طور پر مسترد کرتا ہے ۔ بھارتی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ نام نہاد ثالثی عدالت بھارت کے خودمختار فیصلوں پر رائے دینے کا کسی بھی طرح اختیار نہیں رکھتی، اس کے بیانات، خواہ اب ہوں یا مستقبل میں، ان منصوبوں کے حوالے سے بھارت کے اقدامات پر کوئی اثر نہیں ڈالیں گے جن پر بھارت کام کر رہا ہے ۔ پاکستانی حکومت نے پیر کے روز ثالثی عدالت کے احکامات کا خیر مقدم کیا ہے ۔اس کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایوارڈ اور فیصلہ خود ابھی تک عدالت کی جانب سے شائع نہیں کیا گیا ، تاہم توقع ہے کہ یہ آئندہ ایک ہفتے کے اندر شائع کر دئیے جائیں گے۔

پاکستان نے کہا کہ ثالثی عدالت کی پریس ریلیز سے واضح ہے عدالت نے متفقہ طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ معاہدے کو معطل کرنے سے متعلق بھارت کا فیصلہ معاہدے یا بین الاقوامی قانون کے دیگر قابلِ اطلاق قواعد کے تحت جائز نہیں اور اسی بنا پر معاہدہ نہ تو ختم کیا گیا ہے اور نہ ہی اس پر عملدرآمد معطل ہوا ہے ، بلکہ یہ مکمل طور پر نافذ العمل ہے ۔بھارت معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا پابند ہے اور اسے ان پر عمل کرنا چاہیے ، جن میں مغربی دریاؤں پر پن بجلی منصوبوں کے ڈیزائن اور آپریشن اور ان سے متعلق تنازعات کے تصفیے کی ذمہ داریاں بھی شامل ہیں۔پاکستان نے کہا کہ عدالت کی پریس ریلیز سے یہ بھی واضح ہے کہ عدالت نے متفقہ طور پر ایسے اقدامات نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن کے تحت بھارت کو رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پاور پراجیکٹ کے ڈیم کی دیوار اور بجلی کے حصول کے ڈھانچے کو مخصوص سطحوں سے اوپر کنکریٹ کرنے سے روکا گیا ہے ۔عدالت نے تعمیراتی شیڈول سے متعلق ایک رپورٹنگ اقدام بھی نافذ کیا ہے جو غیر جانبدار ماہر کے حتمی فیصلے کے کچھ عرصے بعد تک برقرار رہے گا۔پاکستان کا کہنا ہے کہ اس کی جانب سے ایوارڈ اور فیصلے کی تفصیلات پر غور کیا جائے گا۔ عدالت یہ بھی دیکھے گی کہ یہ دونوں دستاویزات معاہدے کے تحت فریقین کے درمیان دوبارہ بامعنی رابطے کی راہ ہموار کرنے میں کس طرح معاون ثابت ہو سکتی ہیں، ایسے انداز میں جو معاہدے کے تحت دونوں فریقوں کی قانونی طور پر لازم ذمہ داریوں کی عکاسی کرتا ہو۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...