بشکیک : شہباز شریف کی ایرانی وازبک صدورسے ملاقاتیں ، تعاون بڑھانے کا عزم
پزشکیان کی پاکستانی امن کوششوں کی تعریف، تحمل سے کام لیا جائے :وزیراعظم مرزیایوف سے سٹریٹجک شراکت داری پر گفتگو، آج ایس سی او اجلاس سے خطاب
بشکیک، اسلام آباد (نامہ نگار، وقائع نگار، دنیا نیوز، مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہ اجلاس کے موقع پر ایرانی اور ازبک صدور سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں جانب سے باہمی تعاون مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات میں پاک ایران تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے رواں سال جون میں صدر پزشکیان کے دورہ پاکستان کے دوران ہونے والے فیصلوں پر عملدرآمد کی اہمیت پر زور دیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ دورہ تہران اور وہاں ہونے والے رابطوں سے مثبت نتائج کی توقع ہے ۔ انہوں نے پائیدار امن و استحکام کے لیے تحمل، بردباری اور مسلسل سفارتی رابطوں کی اہمیت پر زور دیا۔ایرانی صدر نے علاقائی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات مشترکہ تاریخ، ثقافت اور مذہبی رشتوں پر قائم ہیں۔
وزیراعظم نے انہیں پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت دی، جبکہ ایرانی صدر نے وزیراعظم کو دسمبر میں تہران میں ہونے والے اقتصادی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی۔ازبک صدر شوکت مرزیایوف سے ملاقات میں وزیراعظم نے ازبکستان کی آزادی کی 35ویں سالگرہ پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ ازبکستان کے ساتھ سٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم اور دونوں ممالک کے بہترین سیاسی تعلقات کو عوام کے لیے ٹھوس معاشی فوائد میں تبدیل کیا جائے گا۔وزیراعظم نے ازبکستان، افغانستان، پاکستان ریلوے منصوبے کو علاقائی رابطوں کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ وسطی اور جنوبی ایشیا کو باہم منسلک کرنے اور ازبکستان کو پاکستانی بندرگاہوں تک رسائی دینے میں کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے ۔ انہوں نے مشترکہ فزیبلٹی اسٹڈی پر جلد پیش رفت اور موجودہ کثیرالجہتی ٹرانسپورٹ راہداریوں کے زیادہ سے زیادہ استعمال پر زور دیا۔ملاقات میں صنعت، زراعت، ادویہ سازی، ٹیکسٹائل، کان کنی، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، تعلیم، ثقافت، دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم نے تاشقند، کراچی براہ راست پروازوں سمیت فضائی رابطوں میں اضافے کی حمایت کی۔وزیراعظم نے ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی آئندہ پاکستان کی صدارت کے لیے ازبکستان کی حمایت کو سراہا۔ انہوں نے علاقائی سلامتی، رابطوں، تجارت اور پائیدار ترقی کے لیے ازبکستان کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔وزیراعظم شہباز شریف تین روزہ سرکاری دورے پر کرغزستان پہنچے ہیں، جہاں کرغزستان کی کابینہ کے چیئرمین عادل بیک قاسمالیف نے ان کا استقبال کیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم آج ایس سی او سربراہ اجلاس سے خطاب میں علاقائی و عالمی امور پر پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے اور ایس سی او پلس سربراہی اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔
پاکستان 2026-27ء کے لیے ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی صدارت بھی سنبھالے گا۔ وزیراعظم اجلاس میں شریک مختلف ممالک کے رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں کریں گے ۔ وہ کل کرغزستان کے صدر صادیر جاپاروف سے ملاقات میں پاک کرغز تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر بات چیت کریں گے ۔روس، چین، بھارت، پاکستان، ایران، بیلاروس اور وسطی ایشیا کے چار ممالک ایس سی او کے رکن ہیں۔ تنظیم اپنے قیام کی 25ویں سالگرہ منا رہی ہے ۔ ایس سی او سربراہ اجلاس میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سمیت روس، چین اور ایران کے صدور بھی شریک ہیں۔ وفاقی وزرا جام کمال خان، عبدالعلیم خان اور عطا اللہ تارڑ بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments