پمز آتشزدگی واقعہ مجرمانہ غفلت ، فوجداری مقدمات درج کیوں نہیں ہوئے : قائمہ کمیٹی
آگ لگنے کی وجوہات پر بھی شکوک و شبہات کا اظہار ، وزیر صحت شعبہ ہیلتھ کو درپیش مسائل سے آگاہ نہیں تھے :ارکان حاضر سروس افسران کی تحقیقات ریٹائرڈ سے کرانے ، ایک افسر کو نو اضافی ذمہ داریاں ، پمز انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالات کمشنر ، چیئرمین سی ڈی اے ، وزیراعظم انکوائری کمیٹی کے ارکان ، عبوری رپورٹ میں نامزد 8افراد کو آئندہ طلب کیا جائے :کمیٹی
اسلام آباد (نیوز رپورٹر) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت نے پمز کے نرسری وارڈ میں آتشزدگی سے 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے واقعے کو مبینہ مجرمانہ غفلت قرار دیتے ہوئے ذمہ دار افراد کے خلاف فوجداری کارروائی کا مطالبہ کردیا اور وزیراعظم کی ہدایت پر تیار کی گئی ابتدائی انکوائری رپورٹ کو خامیوں اور اہم خلا کے باعث ناکافی قرار دے دیا۔ کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ ذمہ دار قرار دیے گئے افراد کے خلاف فوجداری مقدمات اب تک کیوں درج نہیں کیے گئے ۔ کمیٹی نے قانونی پوزیشن کا جائزہ لے کر متعلقہ لاء ڈویژن سے رائے حاصل کرنے کی ہدایت کردی۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین ڈاکٹر مہیش کمار ملانی کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں پمز کے فائر سیفٹی نظام، بجلی کی تنصیبات، ایئرکنڈیشننگ، آکسیجن، بائیومیڈیکل آلات، ہنگامی تیاریوں اور عملے کی تربیت سے متعلق مکمل ریکارڈ طلب کرلیا گیا۔ ارکان نے سوال اٹھایا کہ نرسری جیسے حساس شعبے میں آگ اتنی تیزی سے پھیلنے کی نوبت کیوں آئی اور حفاظتی انتظامات پر مؤثر عملدرآمد کیوں نہیں ہوا۔کمیٹی نے آگ لگنے کی اصل وجہ پر بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔ بعض اطلاعات کے مطابق آگ ممکنہ طور پر ایئرکنڈیشنر سے چنگاری نکلنے کے باعث لگی جبکہ دوسری اطلاعات میں متعلقہ اے سی کے کام نہ کرنے کا ذکر ہے۔
کمیٹی نے متضاد اطلاعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آگ کے اصل ذریعے کی وضاحت طلب کی۔ ارکان نے سوال کیا کہ نرسری میں پورٹیبل اے سی کیوں استعمال کیے جارہے تھے اور برقی آلات کا باقاعدگی سے معائنہ کیوں نہیں کیا گیا۔کمیٹی نے پمز میں گزشتہ پانچ برس کے دوران فائر سیفٹی تنصیبات، ان پر ہونے والے اخراجات، خریداری، ٹینڈرز، ٹھیکیداروں، تنصیب اور مرمت و دیکھ بھال کا مکمل ریکارڈ بھی طلب کرلیا۔ فائر ڈرلز، عملے کی تربیت، فائر الارمز، سپرنکلر سسٹم اور ہنگامی تیاریوں کے بارے میں بھی تفصیلات مانگی گئیں۔ کمیٹی نے کہا کہ یہ واقعہ پورے صحت کے نظام کے لیے سنگین انتباہ ہے ، اس لیے پولی کلینک سمیت دیگر بڑے سرکاری ہسپتالوں میں بھی فائر سیفٹی انتظامات کا فوری جائزہ لیا جائے ۔اجلاس میں اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے گئے ۔ کمیٹی نے استفسار کیا کہ پمز کا آخری جامع معائنہ کب کیا گیا اور آیا اتھارٹی نے سرکاری و نجی صحت کے اداروں کے معائنے اور حفاظتی معیار پر عملدرآمد سے متعلق اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری کیں۔ ریگولیٹری بورڈ کی تشکیل، قانونی حیثیت اور چیف ایگزیکٹو آفیسر کی تقرری کے طریقہ کار پر بھی وضاحت طلب کی گئی۔ارکان نے وفاقی وزیر قومی صحت سے متعلق بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بظاہر وزیر صحت کو شعبے کو درپیش کئی اہم مسائل سے مکمل طور پر آگاہ نہیں کیا گیا۔
کمیٹی نے قرار دیا کہ وزیر محض محکموں کی بریفنگز پر انحصار نہیں کرسکتے ، اصلاحات کے لیے سیاسی اور انتظامی سطح پر ذمہ داری قبول کرنا ضروری ہے ۔کمیٹی نے وزیراعظم کی انکوائری رپورٹ کے بعد کیے گئے اقدامات کی تفصیلات بھی طلب کیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ رپورٹ میں شناخت کیے گئے 8 افراد کے خلاف فوجداری کارروائی کے لیے وزارت داخلہ کو خط لکھا جاچکا ہے ۔ ارکان نے ہر فرد کے خلاف کارروائی اور ذمہ داری عائد کرنے کی بنیاد کے بارے میں وضاحت طلب کی۔ حاضر سروس افسران کے طرزعمل کی تحقیقات ریٹائرڈ افسران سے کرانے کے طریقہ کار پر بھی سوال اٹھایا گیا۔پمز کے انتظامی معاملات پر بھی کمیٹی نے سخت تشویش ظاہر کی، بالخصوص ایک افسر کو مبینہ طور پر 9 اضافی ذمہ داریاں دینے پر سوال کیا گیا۔ کمیٹی نے تمام اضافی ذمہ داریوں، ان کی تفویض کی بنیاد اور مستقل افسران کی تقرری نہ کیے جانے کی وجوہات کی تفصیلات طلب کرلیں۔ پمز کے نئے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی تقرری اور ان کے انتظامی تجربے سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ۔کمیٹی نے چیئرمین سی ڈی اے اور چیف کمشنر اسلام آباد کی عدم شرکت پر بھی برہمی کا اظہار کیا۔
ہدایت کی گئی کہ آئندہ اجلاس میں کمشنر اسلام آباد، چیئرمین سی ڈی اے ، وزیراعظم کی انکوائری کمیٹی کے تمام ارکان اور عبوری رپورٹ میں نامزد 8 افراد کو طلب کیا جائے ۔وفاقی وزیر قومی صحت نے بتایا کہ وزیراعظم نے واقعے کی شام ہی انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی، وزارت نے الگ انکوائری نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق آگ تقریباً 120 سیکنڈ میں پھیل گئی، جس کے نتیجے میں 14 شیر خوار بچوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔ پمز انتظامیہ نے کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ آتشزدگی کی صورتحال کو چند منٹ میں قابو پالیا گیا تھا۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی قومی صحت نے بھی پمز آتشزدگی میں 14 شیر خوار بچوں کی ہلاکت کو قومی سانحہ قرار دیتے ہوئے جامع، غیر جانب دار اور تکنیکی بنیادوں پر تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ غفلت یا قواعد کی خلاف ورزی کے ذمہ دار کسی فرد کو سزا سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔ کمیٹی نے پمز ہسپتال اور ایم سی ایچ کا دورہ بھی کیا اور سفارش کی کہ آتشزدگی کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی آئندہ اجلاس میں اپنی تحقیقات اور نتائج سے آگاہ کرے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments