افغان میڈیکل طلبہ کی واپسی ہائیکورٹ میں چیلنج، آج سماعت

افغان میڈیکل طلبہ کی واپسی ہائیکورٹ میں چیلنج، آج سماعت

یونیورسٹیز کے 13 طلبہ کی پی ایم ڈی سی احکامات کالعدم قراردینے کی استدعا انتظامیہ نے ہاسٹلز سے بھی نکال دیا:طلبہ، جسٹس خالد اسحاق سماعت کرینگے

لاہور(کورٹ رپورٹر)پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی)کے افغان میڈیکل طلبہ کی واپسی کے احکامات کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا۔ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی، شیخ خلیفہ بن زاید النہیان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج اور سروسز انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے 13 افغان طلبہ نے وکیل اسد جمال کے توسط سے پی ایم ڈی سی احکامات کیخلاف متعدد درخواستیں دائر کردیں۔درخواست گزاروں میں 7 خواتین اور 6 مرد طلبہ شامل ہیں۔ رجسٹرار آفس نے درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کردیں ۔جسٹس خالد اسحاق آج صبح 9بجے سماعت کریں گے۔درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں پی ایم ڈی سی کی ہدایات پر متعلقہ میڈیکل کالجز سے نکال دیا گیا ہے، حالانکہ پی ایم ڈی سی کو طلبہ کو اس طرح بے دخل کرنے کا قانونی اختیار حاصل نہیں۔ پی ایم ڈی سی پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ایکٹ 2023 کے تحت ریگولیٹری ادارہ ضرور ہے تاہم اس کے اختیارات آئین اور قانون کے تابع ہیں۔

پی ایم ڈی سی کے اختیارات آئین اور پاکستان کی بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کے مطابق استعمال کیے جانے چاہئیں۔ 2023 کے قانون، آئینی اصولوں یا بین الاقوامی قوانین میں پی ایم ڈی سی کو ایسا من مانا اقدام کرنے کا اختیار نہیں دیا گیا، خصوصاً ان طلبہ کے خلاف جنہوں نے لاہور اور پنجاب کے مختلف اداروں میں اپنی میڈیکل تعلیم کے کئی سال مکمل کرنے میں وقت اور وسائل صرف کیے ہیں۔درخواست گزاروں میں سے متعدد طلبہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے زیر اہتمام علامہ اقبال سکالرشپ پروگرام کے تحت پاکستان میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ درخواست گزار نیلوفر نیک زاد نے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے افغانستان میں میڈیکل تعلیم کے دو سال مکمل کیے تھے ، تاہم طالبان کی جانب سے خواتین کی تعلیم پر پابندیوں کے باعث انہیں افغانستان میں اپنی تعلیم ادھوری چھوڑنا پڑی اور وہ مزید تعلیم کے لیے پاکستان آئیں۔

درخواست گزاروں نے عدالت کو بتایا کہ پی ایم ڈی سی کی ہدایات کے بعد اچانک اور غیر متوقع صورتحال پیدا ہوئی، جس کے نتیجے میں متعلقہ کالجز نے انہیں ہاسٹلز سے بھی نکال دیا۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں ان کے پاس رہائش کا کوئی مناسب انتظام نہیں رہا جبکہ ان کا تعلیمی مستقبل بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہوگیا ہے ۔درخواست میں کہا گیا کہ پی ایم ڈی سی کے احکامات سے پاکستان بھر میں زیر تعلیم افغان میڈیکل طلبہ شدید ذہنی پریشانی کا شکار ہیں اور انہوں نے تمام دیگر راستے بند ہونے کے بعد آخری امید کے طور پر عدالت سے رجوع کیا ہے ۔درخواست گزاروں نے لاہور ہائیکورٹ سے استدعا کی ہے کہ پی ایم ڈی سی کی جانب سے 31 جولائی اور یکم ستمبر کو جاری کیے گئے دونوں احکامات کو غیر قانونی، غیر آئینی، قانونی اختیار کے بغیر اور ابتدا ہی سے کالعدم قرار دیا جائے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...