قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی :عدالتوں کیلئے قومی ای فائلنگ اور الیکٹر انگ ریکارڈ نظام کی منظوری

قومی  عدالتی  پالیسی  ساز  کمیٹی :عدالتوں  کیلئے  قومی  ای  فائلنگ  اور  الیکٹر انگ  ریکارڈ  نظام  کی منظوری

چیف جسٹس کی زیرصدارت اجلاس، عدالتی اصلاحاتی فریم ورک کو عالمی قانون سے ہم آہنگ کرنے کا فیصلہ 15 مارچ 2027 تک اصلاحاتی ٹریکر پورٹل فعال،خاندانی مقدمات میں ای فائلنگ نظام کا تجرباتی نفاذ ہوگا ضلعی عدلیہ کے ججز و عملے کیلئے ہیلتھ انشورنس کا فیصلہ،جبری گمشدگیوں اور مجوزہ کمیشن پر جامع رپورٹ طلب

 اسلام آباد(اے پی پی)چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحیی آفریدی کی زیرصدارت قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کے 62ویں اجلاس میں ادارہ جاتی استعداد کار مضبوط بنانے ، انصاف تک رسائی تیز کرنے اور موثر و شفاف نظام انصاف یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا  جبکہ پاکستان کی عدالتوں کیلئے قومی متحدہ ای فائلنگ اور الیکٹرانک عدالتی ریکارڈ نظام کی اصولی منظوری دے دی گئی۔سپریم کورٹ اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں لاہور ہائیکورٹ، پشاور ہائیکورٹ اور سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس صاحبان جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں قومی عدالتی اصلاحاتی فریم ورک کو عالمی قانون کی حکمرانی کے اشاریے سے ہم آہنگ کرنے ، قانون کی حکمرانی اور عدالتی اصلاحات ٹریکر پورٹل کو 15 مارچ 2027 تک تمام عدالتی سطحوں پر مکمل فعال کرنے اور عدالتی اعدادوشمار کی بروقت، درست اور مربوط ترسیل کیلئے میڈیا و سٹریٹجک کمیونیکیشن سیل کو فوری طور پر فعال کرنے کے فیصلے کئے گئے ۔

کمیٹی نے جبری گمشدگیوں کے مقدمات سے نمٹنے کیلئے ازالہ کا طریقہ کار اور مجوزہ کمیشن کی تشکیل کے معاملے پر وزارت قانون و انصاف کو کارروائی جلد مکمل کرکے آئندہ اجلاس میں جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ،نظام کے یکساں ای فائلنگ فارم حتمی شکل دینے کیلئے تمام ہائیکورٹس کے رجسٹرارز یا ان کے نامزد نمائندوں اور صوبائی و اسلام آباد بار کونسلز کے نامزد ارکان پر مشتمل کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا۔نئے نظام کا ابتدائی تجرباتی نفاذ ہر صوبے اور اسلام آباد کے منتخب مقامات پر خاندانی مقدمات میں کیا جائے گا جس میں فیملی کورٹ، ضلعی عدالت، متعلقہ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ شامل ہوں گے ۔کمیٹی نے قومی عدالتی تجزیاتی ڈیش بورڈ میں 17 ترجیحی مقدمات کی اقسام کے کامیاب انضمام کو سراہا اور ہائیکورٹس کے رجسٹرارز کو اعدادوشمار کی مکمل اور درست فراہمی یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی۔ چیف جسٹس صاحبان کو مقدمات کے فیصلوں، زیرالتوا مقدمات، بیک لاگ اور دیگر کارکردگی کے حوالے سے ماہانہ بریفنگ دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے یکم ستمبر 2025 سے 31 جولائی 2026 کے دوران ٹائم باؤنڈ مقدمات کے 14 لاکھ 67 ہزار 675 فیصلے کئے جانے پر ضلعی عدلیہ کی غیر معمولی کارکردگی کو سراہا۔اجلاس میں ضلعی عدلیہ کے ججز اور عملے کیلئے طبی سہولیات کی فراہمی کے سلسلے میں لاہور ہائیکورٹ کی منظور شدہ ہیلتھ انشورنس پالیسی اپنانے کا متفقہ فیصلہ کیا گیا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...