آبنائے ہرمز: ایران وخلیجی ممالک کا آج اہم اجلاس ، سعودی عرب کے حوثیوں پر جوابی فضائی حملے : مڈٹرم الیکشن کے بعد جنگ فوری ختم : ٹرمپ
آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز پر حملہ، 1شخص ہلاک ،حوثیوں کا سعودی فوجی اڈے شرورہ پر ڈرون ومیزائل حملے کادعویٰ ،ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو گا،سعودی عرب سعودی پائپ لائن بندش، عالمی تیل رسد میں 4 فیصد کمی کا خطرہ،حوثی تنظیم کا بحیرہ احمر کے جزیرے میون پر قبضے کا دعویٰ،یمن میں 86 ہزار بے گھر، 2 ہزار جبوتی پہنچ گئے
تہران،دبئی،ریاض،صنعا(نیوز ایجنسیاں) ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق اہم اجلاس آج پیر کو عمان کے شہر صلالہ میں ہوگا، جس میں مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی تعاون مضبوط بنانے پر غور کیا جائے گا۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق اجلاس خلیج میں علاقائی سکیورٹی تعاون کا فریم ورک تشکیل دینے کی جانب پہلا قدم ہوگا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ملاقات خطے میں استحکام اور سلامتی یقینی بنانے کیلئے بنیادی حیثیت رکھتی ہے ۔بحرین کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایسے کسی اجلاس میں شرکت نہیں کرے گا جس میں ایران موجود ہو۔رپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ بھی اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے اور امکان ہے کہ اس ملک کی جانب سے ایک کم درجے کا عہدیدار عمان جائے گا۔امریکی صدر ٹرمپ نے ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق ہونے والے اجلاس پر لاتعلقی کا اظہار کردیا۔ آئرلینڈ کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ سے عمان میں پیر کو ہونے والے مجوزہ اجلاس کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ مجھے کوئی پروا نہیں، یہ ان کا معاملہ ہے ۔ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران شدت سے معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان جنگ نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے یا فوراً بعد ختم ہو جائے گی۔
آئرش اوپن گالف ٹورنامنٹ کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران بار بار رابطہ کر رہا ہے اور معاہدہ کرنا چاہتا ہے ، تاہم امریکا ایسا معاہدہ قبول نہیں کرے گا جو اس کے لیے اچھا نہ ہو۔انھوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے بعد ایندھن کی قیمت تیزی سے کم ہو جائے گی۔ٹرمپ اس سے قبل بھی کہہ چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ امریکی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہو جائے گی۔حوثی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے یمن کے شمالی صوبے صعدہ میں جوابی فضائی حملے کیے ہیں۔ حوثی گروپ کے ٹی وی چینل المسیرہ کے مطابق سرحدی ضلع منبہ میں توپخانے سے بھی گولہ باری کی گئی۔ صعدہ کو ایران نواز حوثی گروپ کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے ۔ حوثی جنگجوؤں اور یمنی حکومت کی حمایت کرنے والی فورسز کے درمیان مختلف علاقوں میں جھڑپیں جاری ہیں۔ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔برکس اجلاس سے خطاب میں شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا خلیجی ممالک اپنی سرزمین پر کسی بھی بہانے سے حملے برداشت نہیں کریں گے ۔ خلیج عرب میں امن و سلامتی صرف ریاستوں کی خود مختاری کے احترام سے ہی ممکن ہے ۔سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی سے محاذ آرائی کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔
بڑھتی کشیدگی سے تنازع مزید پھیلنے کا خطرہ ہے ۔ان کا کہنا تھا خلیج میں استحکام عالمی مسئلہ ہے کیونکہ یہ خطہ عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے ۔یمن کے حوثی جنگجوؤں نے جنوبی سعودی عرب میں فوجی اڈے پر ڈرونز اور میزائلوں سے حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے ، حوثی فوجی ترجمان یحیی سریع نے کہا کہ جنوبی علاقے شرورہ کے فوجی اڈے پر موجود اسلحہ ڈپو اور کمانڈ و کنٹرول مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ حملے کی تاریخ واضح نہیں کی گئی۔ادھر یمنی فوج کے مطابق تعز کے علاقے میں حوثیوں کے ٹھکانوں اور بیرکوں پر 3 فضائی حملے کیے گئے ، جبکہ موچا کے قریب بھی کارروائی کی گئی۔ قشم کاؤنٹی کے گورنر حسین امیر تیموری نے بتایا ہے کہ ایک ایرانی تجارتی جہاز پر حملے میں ایک شخص ہلاک جبکہ تین زخمی ہو گئے ہیں۔ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے حسین امیر تیموری نے کہا کہ اتوار کی صبح تقریباً پانچ بجے جزیرہ ہنگام اور جزیرہ قشم کے ساحلی علاقے کے قریب ایک تجارتی بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا۔گورنر نے واقعے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں اور نہ ہی یہ بتایا کہ حملے میں کس قسم کے ہتھیار یا جہاز کا استعمال کیا گیا۔ سعودی عرب میں اہم تیل پائپ لائن کی بندش سے عالمی منڈی میں تیل کی رسد متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے ۔ پائپ لائن میں تعطل کے باعث دنیا کی مجموعی تیل سپلائی کے تقریباً چار فیصد حصے کے متاثر ہونے کا امکان ہے ۔ ماہرین کے مطابق طویل بندش کی صورت میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے اور توانائی کی عالمی ترسیل بھی متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔
ایران اور متحدہ عرب امارات نے مشرق وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد کشیدہ تعلقات کو بہتر بنانے اور نئے سرے سے آگے بڑھنے پر اتفاق کیا ہے ۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ دونوں ممالک ماضی کو پیچھے چھوڑ کر مستقبل پر توجہ دینا چاہتے ہیں۔ مسعود پزشکیان نے اتوار کو بیان میں کہا کہ ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان کے ساتھ تعمیری بات چیت ہوئی۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات بھارت میں برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر ہوئی تھی۔ ایرانی صدر کے مطابق ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دونوں ممالک تعلقات کا نیا باب شروع کریں گے ، مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے مشترکہ طور پر آگے بڑھیں گے ۔ ایران اور امارات کے درمیان مشرق وسطیٰ کی جنگ کے آغاز کے بعد تعلقات میں تناؤ پیدا ہوا تھا۔مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایرانی عوام کبھی ہتھیار نہیں ڈالیں گے اور ایران کو دباؤ کے ذریعے تسلیم کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ایکس پر جاری بیان میں مسعود پزشکیان نے امریکا کی جانب سے شہری تنصیبات، خوراک اور لوگوں کے روزگار کو نشانہ بنانے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا میں ہمت ہے تو ایرانی فوج کا سامنا کریں، شہری بنیادی ڈھانچے اور خوراک کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے ؟۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آج ہونے والے اجلاس کے ایجنڈے میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے نئے بحری راستے کا معاملہ شامل ہے ۔عراقچی نے کہا کہ ہم عمان کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کی تفصیلات اور نئے راستے سے متعلق نقشے اجلاس میں شریک ممالک کو فراہم کریں گے۔
تاہم ایرانی وزیر خارجہ نے زور دے کر کہا کہ سلطنتِ عمان کے ساتھ معاہدے کا کسی بھی صورت یہ مطلب نہیں کہ آبنائے ہرمز کھول دی گئی ہے ۔ آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران کی شرط یہ ہے کہ امریکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں کیے گئے اپنے وعدوں پر واپس آئے ۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ترکیہ اور عراق کے اپنے ہم منصبوں سے الگ الگ ٹیلیفونک رابطے کیے ، جن میں علاقائی صورتحال، دوطرفہ تعلقات اور خطے میں تنازعات کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔یمن کی حوثی اکثریتی تنظیم انصار اللہ نے بحیرہ احمر کے اسٹریٹجک جزیرے میون پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے ۔عرب میڈیا کے مطابق جزیرہ میون پر قبضے کے بعد حوثیوں کا باب المندب پر مکمل کنٹرول ہو گیا ہے ۔یمن کی فوجی ریزرو فورس نیشن شیلڈ فورس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے حوثی باغیوں کے پانچ ڈرون مار گرائے ہیں۔یمن میں حکومتی فورسز اور ایران نواز حوثی باغیوں کے درمیان شدید لڑائی کے باعث تقریباً 86 ہزار افراد بے گھر ہوگئے ۔ اقوام متحدہ کی عالمی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) کے مطابق یمن میں لڑائی سے فرار ہونے والے دو ہزار سے زائد افراد جبوتی پہنچ گئے ہیں۔سعودی عرب کے سول ڈیفنس ادارے نے یمن سے ملحق دو علاقوں میں ممکنہ حملوں کے پیش نظر شہریوں کو الرٹ جاری کردیا، تاہم کچھ ہی دیر بعد انتباہ واپس لے لیا گیا۔
حکام کے مطابق الرٹ جنوبی شہر ابہا اور خمیس مشیط کے گردونواح کیلئے جاری کیا گیا تھا۔ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے نائب سیاسی افسر علی محمدی نے آبنائے ہرمز میں امریکی بحری موجودگی سے متعلق بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ٹرمپ واقعی اس اہم آبی گزرگاہ کو کنٹرول کرنے کی بات کرتے ہیں تو وہ اپنے کسی بحری جہاز کو 100 کلومیٹر کے اندر لا کر دکھائیں۔ایرانی میڈیا کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کے تحت آبنائے ہرمز فوری طور پر دوبارہ نہیں کھولی جائے گی۔دونوں ممالک نے آبنائے ہرمز میں داخلے اور اخراج کے لیے نئے بحری راستوں پر اتفاق کیا ہے ۔ روسی میڈیا کے مطابق ایران نے ثالثوں کے ذریعے امریکا کو 7 شرائط پیش کی ہیں تاہم ان شرائط کی تفصیل ظاہر نہیں کی گئی۔ اتنا کہا گیا ہے کہ ایران نے امریکا پر واضح کیا ہے کہ شرائط پوری نہ ہوئیں تو آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی۔متحدہ عرب امارات اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث تجارتی روابط متاثر ہونے کے باوجود دبئی کی پرانی منڈیوں میں ایرانی اشیا کی آمد جاری ہے ۔ زعفران، زیرہ، پستہ، بادام اور دیگر روایتی غذائی اجناس اب بھی دکانوں پر دستیاب ہیں۔ عراق نے ایران سے ملحقہ تین سرحدی گزرگاہیں مرحلہ وار دوبارہ کھولنے کا اعلان کردیا۔ یہ فیصلہ سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن پر ڈرون حملے کے بعد گزرگاہیں بند کیے جانے کے ایک روز بعد سامنے آیا۔ شلمجہ اور الشیب گزرگاہیں اتوار کو مسافروں کے لیے کھول دی گئیں، تاہم تجارتی سرگرمیاں بدستور معطل ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments