پی ٹی آئی احتجاج، حکومتی مشینری حکمت عملی پرگامزن
احتجاجی سیاست اور ایک دوسرے کو تسلیم نہ کرنے کا رویہ ملک کیلئے نقصان دہ
(تجزیہ:سلمان غنی)
پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے احتجاج کیخلاف دائر درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے یہ ریمارکس کہ ‘‘کسی سیاسی جماعت کے پاس اسلام آباد کی شاہراہوں اور عوامی مقامات بند کرنے کا کوئی اختیار نہیں’’موجودہ حالات میں بروقت سنجیدہ اور اہم فیصلہ قرار دیا جا سکتا ہے جسکے تحت ریاستی اداروں اور سیاسی جماعتوں کے دائرہ کار کی واضح حد بندی کے ساتھ شہریوں کے بنیادی حقوق کے پختہ عزم کو ظاہر کرتا ہے لہٰذا اس امر کا تجزیہ ضروری ہے کہ آخر سیاسی جماعتیں اسلام آباد کو ہی ٹارگٹ کیوں کرتی ہیں اور کیا احتجاج اور دھرنا سیاست حکومتی فیصلوں پر اثرانداز ہوسکتی ہے ۔درحقیقت اسلام آباد میں احتجاج اور احتجاجی عمل کا براہ راست حکومت پر دباؤ آتا ہے یہی وجہ ہے کہ دھرنا یا مارچ حکومت کیلئے بڑا چیلنج بنتا ہے اور حکومت اور اداروں کیلئے اس سے صرف نظر برتنا ممکن نہیں ہوتا، ویسے بھی جب اپوزیشن کی بڑی جماعت تحریک انصاف اور اسکی پختونخوا حکومت ملکر اسلام آباد پر چڑھائی کا ماحول پیدا کر رہی ہے تو اس سے حکومت کیلئے پریشانی بن جاتی ہے ، ماضی میں ڈی چوک یا ریڈ زون کی طرف مارچ کو سیاسی عمل کا حصہ سمجھا جاتا تھا لیکن 9 مئی واقعات نے ریاست اوراداروں کو مستقبل میں ایسی صورتحال سے نمٹنے کیلئے بہت زیادہ الرٹ اور حساس بنا رکھا ہے اور حکومت و ریاست فیصلہ کر چکی کہ اسلام آباد میں امن و امان ہرقیمت پر یقینی بناناہے اور واضح حکمت عملی تیار کرکے اس پر گامزن بھی ہے ۔
بلاشبہ عدالتی فیصلہ کے بعد اب دباؤ صرف حکومت پر نہیں بلکہ احتجاج کرنیوالی سیاسی قوتوں پر آ یا ہے لہٰذا سڑکیں بند کرنا یا ریڈزون کو کراس کرنا اب عدالتی فیصلہ کے بعدممکن دکھائی نہیں دیتا ،دوسری طرف حکومت جماعت اسلامی کے دھرنا سے زیادہ پریشان نہیں اور ان سے مذاکرات بھی جاری ہیں ، اطلاعات ہیں کہ پی ٹی آئی سیاسی دباؤ کے نتیجہ میں جو چاہتی ہے حکومت کے پاس بھی اس کا اختیار نہیں ،ماہرین کا خیال ہے کہ 27 ستمبر سے پہلے ایسی صورتحال بن سکتی ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی بعض معاملات پر لچک دکھائیں اور معاملات کو سیاسی انداز میں حل کیا جاسکے تاہم حکومت اور پی ٹی آئی بداعتمادی کاشکار ہیں لہٰذا حکومت کو آخری وقت تک مسائل کے سیاسی حل کیلئے کوشاں رہنا ہوگا اوراسکا واحد راستہ مذاکرات ہیں جبکہ پی ٹی آئی کی اسلام آباد پر چڑھائی کیلئے اپوزیشن کی بعض جماعتیں بھی اسکے ساتھ نہیں جن میں جے یو آئی (ف )بھی شامل ہے اور خود پی ٹی آئی کے اندر بھی دوآرا ہیں، اس مرتبہ احتجاج کی قیادت پختونخواکے وزیراعلیٰ سہیل خان آفریدی کرتے نظرآ رہے ہیں اور یہ انکے وزیراعلیٰ بننے کے بعد پہلا امتحان ہے لہٰذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ پی ٹی آئی احتجاجی آپشن کو ہی اپنے لئے سیاسی آپشن سمجھتی ہے ، یہ بھی حقیقت ہے کہ احتجاجی سیاست اور ایک دوسرے کو تسلیم نہ کرنے کا رویہ ملک کو معاشی سیاسی اور جمہوری طور پر نقصان پہنچا رہا ہے اور افسوس سیاستدانوں اور حکمرانوں کو اس کا ادراک نہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments