پی ٹی آئی ارکان اسمبلی اور کارکنوں کی پکڑدھکڑ، علیمہ 30روز کیلئے نظر بند: اقدام کشیدگی کو ہوادینے کے مترادف : بیرسٹر گوہر
پارلیمنٹ لاجز ، قومی اسمبلی کے باہر سے احسن جمال ،سینیٹر سیف اللہ کو پکڑا گیا،عمران کی ہمشیرہ کوٹ لکھپت جیل منتقل بدترین سیاسی انتقام :آفریدی،27 ستمبر کا احتجاج کوئی نہیں روک سکتا:راجہ ناصر ، پورا خاندان عملاً گھر نظر بند :بیٹا علیمہ مارچ روکنے کیلئے اسلام آباد میں سخت حکومتی اقدامات، داخلی راستوں پر خندقیں کھودیں جائینگی، مورچے بنانے کا فیصلہ
لاہور، اسلام آباد ،پشاور(کرائم رپورٹر ،سیاسی نمائندہ،مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں)لانگ مارچ سے قبل تحریک انصاف کے متحرک کارکنوں کی گرفتاریوں کے بعد مرکزی قیادت، اراکینِ قومی اسمبلی ، سینیٹرز کی بھی مبینہ پکڑ دھکڑ شروع ، متعدد گرفتار،بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان کو بھی تھری ایم پی او کے تحت 30 روز کیلئے نظر بند کر دیاگیا ۔چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر،وزیراعلیٰ پختونخوا سہیل آفریدی،سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر،علی ظفر ،اپوزیشن لیڈر سینیٹ راجہ ناصر عباس ودیگر رہنماؤں نے گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے کہا ہے کہ حکومتی اقدام کشیدگی کو ہوا دینے کے مترادف ہے ،27 ستمبر کالانگ مارچ کوئی نہیں روک سکتا۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اور پنجاب کے مختلف شہروں میں تحریکِ انصاف کیخلاف کریک ڈاؤن شدید تر ہو گیا ہے ۔ پارٹی ترجمان شیخ وقاص اکرم اور اطلاعات کے مطابق اسلام آباد میں پولیس نے کارروائی کرتے میانوالی سے منتخب رکنِ قومی اسمبلی احسن جمال خان کو قومی اسمبلی کی عمارت کے بالکل سامنے سے ، سینیٹر سیف اللہ نیازی کو پارلیمنٹ لاجز کے اندر سے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔ ارکان قومی اسمبلی میاں غوث ،ثنا اللہ خان مستی خیل ، داور خان کنڈی کو بھی حراست میں لیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
علاوہ ازیں بہاولپور سے پی ٹی آئی رہنما سمیع اللہ چودھری کے بیٹے حمود بن سمیع کو گرفتار کرلیا گیا۔دوسری طرف لاہور پولیس نے بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان کو پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کی دفعہ تین (تھری ایم پی او)کے تحت گرفتار کر کے 30 روز کیلئے نظر بند کر دیا ۔ذرائع نے کہا کہ علیمہ خان کو لاہور سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ اپر مال میں اپنے گھر سے ڈرائیور امیر کے ہمراہ جمخانہ جا رہی تھیں،انہیں لٹن روڈ پولیس نے حراست میں لے کر کوٹ لکھپت جیل پہنچا دیا اور گاڑی تھانے منتقل کر دی ، گرفتاری سے قبل ڈی سی لاہور کو ارسال پولیس رپورٹ میں کہا گیا کہ علیمہ خان 9 مئی کے احتجاج اور سڑکوں کی بندش واقعات میں ملوث تھیں اور انہوں نے کارکنوں کو سرکاری اور عوامی املاک کو نقصان پہنچانے پر اکسایا تھا، علیمہ خان سوشل میڈیا اور عوامی اجتماعات کے ذریعے کارکنوں کو متحرک کر رہی تھیں ۔پولیس رپورٹ اور ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی کی سفارش پرڈی سی لاہور نے علیمہ خان اورمحمد امیر کو 30 نظر بند کرنے کا حکم جاری کیا۔ چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے علیمہ خان کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے کہا کہ یہ گرفتاری حالات خراب کرنے کی جانب پہلا قدم ہے ، ہمارا مارچ پُرامن اور سیاسی ہوگا، علیمہ خان کو گرفتار کرنا کشیدگی کو ہوا دینے کے مترادف ہے ، حکومت تمام اقدامات فی الفور بند اور علیمہ خان کو رہا کرے ،ایسے اقدامات کیخلاف پارٹی اپنا لائحہ عمل جلد دے گی۔
وزیراعلیٰ پختونخوا سہیل آفریدی نے ایکس پر جاری مذمتی بیان میں کہا کہ خاتون چیف جسٹس کے ہوتے ہوئے پنجاب میں خواتین سے روا سلوک اور چادر چار دیواری کے تقدس کو پامال کرنا انتہائی شرمناک اور ہماری روایات کے منافی ہے ، علیمہ خان کو اغوا کرکے جیل منتقل کرنا بدترین سیاسی انتقام کے علاوہ کچھ نہیں۔سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے بیان میں کہا ہے کہ عمران خان کی بہن کو جیل بھیجنا انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت اقدام ہے ، 27 ستمبر کا پرامن احتجاج سوائے عمران خان کے کوئی نہیں روک سکتا جبکہ پارٹی رہنما زلفی بخاری نے ایکس پر بیان میں کہا ہے احتجاج کا خوف واضح اثر دکھا رہا ہے ۔ اسد قیصر نے بیان میں کہا بانی پی ٹی آئی کے خاندان کے غیرسیاسی افراد کو حراست میں لینا تشویشناک ہے ۔ ایکس پر جاری بیان میں علی ظفر نے کہا کہ پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز، کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں انتہائی قابل مذمت ہیں ،سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا ، سیاسی معاملات کو آئینی اور جمہوری طریقے سے حل کرنا چاہیے ۔ادھر عمران خان کی بہنوں نورین نیازی اورعظمیٰ خانم نے اپنے وکیل مدثر عمر کے ہمراہ علیمہ خان کی رہائشگاہ کے باہر ہنگامی پریس کانفرنس میں کہا کہ علیمہ کی گرفتاری 27 ستمبر کا دباؤ ہے ،اگر یہ سمجھتے ہیں علیمہ خان کو پکڑنے سے ہم ڈر جائیں گے تو یہ انکی بھول ہے ،عوام اپنے ملک اور عمران خان کیلئے باہر نکلیں ، بانی کے علاہ کوئی اس ملک کو ٹھیک نہیں کر سکتا ۔ ذرائع کے مطابق پریس کانفرنس کے بعد عمران خان کی بھانجی او رحسان نیازی کی بہن ہاجرہ نیازی کو انکے شوہر عظیم سمیت اور پارٹی رہنما شایان بشیر کو بھی گرفتارکر نے کے بعد رہا کر دیا گیا۔
دریں اثنا علیمہ خان کے صاحبزادے شیر شاہ خان نے ایکس پر جاری بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ انکے گھر کے اطراف سکیورٹی ناکہ بندی کر دی گئی ،ہمارا گھر محاصرے میں ہے ،گلی کے دونوں سرے کر نے سے ہمارا پورا خاندان عملاً گھر میں نظر بند ہو چکا ہے ۔ادھر پشاور میں قیادت نے علیمہ خان کی گرفتاری کے بعد پارٹی کے ارکان اسمبلی کو پختونخوا سے باہر جانے سے روک دیا ۔ذرائع نے بتایا ہے کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کو بھی پختونخوا آنے کی دعوت دیدی گئی۔ دوسری جانب حکومت نے پی ٹی آئی کے اسلام آباد شیڈول لانگ مارچ کو روکنے کیلئے اہم فیصلے کئے ہیں ۔وفاقی دارلحکومت کے داخلی راستوں پر خندقیں کھودی اور مورچے بنائے جارہے ہیں، ریڈزون کے گرد اوراہم شاہراہوں پر رکھے کنٹینرز میں مٹی کی بوریاں بھرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ۔ذرائع کے مطابق بوریوں میں مٹی بھرنے کیلئے درجنوں مزدوروں کو کام پر لگا دیا گیا ، راولپنڈی، اسلام آباد پولیس افسروں کو خندقیں کھودنے کیلئے مشینری اور مزدور جمع کرنے کی ہدایت بھی کر دی گئی ۔ سڑکیں روکنے اور کنٹینرز میں بھرنے کیلئے دو لاکھ بوریاں مٹی سے بھرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے ، 26 نمبر چونگی، پیرودھائی، آئی جے روڈ سمیت خیبرپختونخواہ سے آنیوالی سڑکوں پر خندقیں کھودی جائینگی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments