سندھ: 63فیصد سکول پینے کے پانی، 32فیصد بجلی سے محروم
75 فیصد سکولوں میں چار دیواری، 51 فیصد میں ٹوائلٹس بھی موجود نہیں
کراچی (رپورٹ:شمس کیریو)سندھ کے سرکاری سکولوں میں بنیادی سہولیات کی سنگین صورتحال کا انکشاف ہوا ہے۔ محکمہ تعلیم کے ذرائع سے موصول دستاویز کے مطابق صوبے کے 38 ہزار 34 سرکاری سکولوں کا جائزہ لیا گیا، جن میں ہزاروں بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔دستاویز کے مطابق 26 ہزار 6 سکول یعنی 63 فیصد پینے کے صاف پانی، 13 ہزار 13 سکول یعنی 32 فیصد بجلی کی سہولت سے محروم ہیں۔ اسی طرح 30 ہزار 753 سکول یعنی 75 فیصد میں چار دیواری جبکہ 20 ہزار 913 سکول یعنی 51 فیصد میں ٹوائلٹس کی سہولت موجود نہیں۔دستاویز کے مطابق دو برس قبل 4 ہزار 590 سکول یعنی 11.34 فیصد شیلٹر لیس تھے ، تاہم چھت سے محروم سکولوں کی تعداد بڑھ کر 5 ہزار 159 ہوگئی ہے ۔تعلیمی ماہرین کے مطابق بنیادی سہولیات کی کمی طلبہ کے تعلیمی ماحول، توجہ اور رویوں پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے ۔ بالخصوص طالبات کیلئے واش روم، صاف پانی اور محفوظ چار دیواری کی سہولت انتہائی اہم ہے ، جن کی عدم دستیابی حاضری اور تعلیمی سرگرمیوں میں شرکت کو متاثر کرسکتی ہے ۔سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی یہ صورتحال محکمہ تعلیم کی جانب سے تعلیمی اصلاحات اور بہتری کیلئے جاری مہم کے دعووں پر بھی سوالات اٹھاتی ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments