حصص خرید و فروخت:سیلز ٹیکس تنازع 2 ہفتوں میں طے کرنیکا حکم
پنجاب میں ٹیکس دے رہے ، سندھ ریونیو بورڈ بھی مطالبہ کر رہا:درخواستگزار کمپنی ہائیکورٹ کے قومی ٹیکس کونسل کو بھی قانونی وجوہات پر مبنی فیصلہ کے احکامات
لاہور (کورٹ رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ نے حصص کی خرید و فروخت کی خدمات پر سیلز ٹیکس وصولی کے معاملے میں پنجاب اور سندھ کے درمیان دائرہ اختیار کا تنازع 2 ہفتوں میں طے کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے قومی ٹیکس کونسل کو ہدایت کی کہ ظفر سکیورٹیز پرائیویٹ لمیٹڈ اور دیگر متعلقہ فریقین کو سننے کے بعد قانون کے مطابق وجوہات پر مبنی فیصلہ جاری کرے ۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس حسن نواز مخدوم اور جسٹس محمد اجمل زاہد پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے سٹاک بروکر کمپنی ظفر سکیورٹیز پرائیویٹ لمیٹڈ کی جانب سے سیلز ٹیکس کے دائرہ اختیار سے متعلق درخواست پر سماعت کی۔
درخواست گزار کمپنی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کا کاروباری دفتر لاہور میں ہے اور وہ پنجاب ریونیو اتھارٹی کو سیلز ٹیکس ادا کر رہی ہے ،سندھ ریونیو بورڈ بھی اسی سروسز پر ٹیکس کا مطالبہ کررہا ہے ۔ درخواست میں نیشنل ٹیکس کونسل سے بھی معاملے کا فیصلہ کرنے اور پنجاب و سندھ حکومتوں کے درمیان ٹیکس کے دائرہ اختیار سے متعلق معاملہ طے کرنے کی استدعا کی گئی ۔عدالتی حکم کے مطابق سماعت کے دوران پنجاب ریونیو اتھارٹی کی جانب سے وکیل کنور حیدر علی اور لیگل آفیسر عاصم ظفر عدالت پیش ہوئے ۔ عدالت نے حصص کی خرید و فروخت کی خدمات پر سیلز ٹیکس وصولی کے معاملے میں پنجاب اور سندھ کے درمیان دائرہ اختیار کا تنازع دو ہفتوں میں طے کرنے کا حکم دیدیا۔ عدالت نے قومی ٹیکس کونسل کو ہدایت کی کہ فریقین کو سننے کے بعد قانون کے مطابق وجوہات پر مبنی فیصلہ جاری کرنے کے احکامات جاری کئے جائیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments