حرمین شریفین کی سلامتی اور تقدس ریڈ لائن:آبنائے ہر مزاور باب المندب عالمی معیشت کی شہ رگ،انہیں کھلے رہنا چاہیے،کشمیریوں کی حمایت جاری رکھیں گے:شہباز شریف
مکہ دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں، امریکا اور ایران کو اسلام آباد میں ایک چھت تلے بٹھایا،فیلڈ مارشل نے سفارت کاری کی گنجائش پیدا کی،اسرائیلی جارحیت بند ہونی چاہیے :وزیراعظم بھارت کو وہ سبق سکھایا جو نہیں بھولے گا،پانی کو ہتھیار نہیں بنانا چاہیے ،افغانستان سے دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ناگزیر:جنرل اسمبلی سے خطاب، گوتریس ،عباس عراقچی ،پرنس رحیم آغا سے ملاقاتیں
نیویارک (نیوزایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے حرمین شریفین کی سلامتی اور تقدس کو ریڈ لا ئن قراردیتے ہوئے کہا پاکستان سعودی عرب کے برادر عوام کے ساتھ کھڑا ہے ، آبنائے ہرمز اور باب المندب عالمی معیشت کی شہ رگ ہیں، انھیں کھلے رہنا چاہیے ،کشمیر یوں کی حمایت جاری رکھیں گے ۔ وزیر اعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب کا آغاز قرآن مجید کی سورۃ الانفال کی آیت 61کی تلاوت سے کیاجس میں کہا گیا ہے کہ’’اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی ان کی طرف مائل ہو جاؤ‘‘۔انہوں نے کہا میں پرامن پاکستانی عوام کی نمائندگی کررہا ہوں،معزز ایوان سے چوتھی مرتبہ خطاب میرے لئے اعزاز کی بات ہے ۔ شہباز شریف نے کہا پاکستان نے امریکا اور ایران کو اسلام آباد میں ایک چھت تلے بٹھایا، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں نے سفارت کاری کی گنجائش پیدا کی، سفارت کاری کا مطالبہ اب بھی بلند ہونا چاہیے ۔اپنے خطاب میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب کو کھلا رہنا چاہیے ، انہیں تنازع کا چوک پوائنٹ نہیں بننا چاہیے ۔وزیر اعظم نے کہا کہ مکہ کے مقدّس شہر پر ڈرون حملے نے دنیا بھر میں مسلمانوں کو غم و غصے میں مبتلا کیا، حرمین شریفین پر حملہ ریڈ لائن ہونی چاہیے ، پاکستان سعودی عرب کے برادر عوام کے ساتھ کھڑا ہے ۔
جنرل اسمبلی سے خطاب میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ مکہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں، یہ خطے میں دفاع اور امن کے لیے مشترکہ کوشش ہے ۔معرکہ حق کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بھارت نے جھوٹا بہانہ بنا کر پاکستان پر حملہ کیا اور پاکستان نے اقوام متحدہ کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنا دفاع کیا۔ پاکستان نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں بھارت کا مقابلہ کیا اور اسے وہ سبق سکھایا جو وہ کبھی نہیں بھولے گا۔وزیر اعظم نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی قیادت کے باعث جنوبی ایشیا کے کروڑوں عوام کی جانیں بچ گئیں، دو ایٹمی پڑوسی ملک کھلی جنگ کے دہانے پر تھے ۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہمیں یقینی بنانا ہو گا کہ جنوبی ایشیا دوبارہ اس صورت حال پر نہ پہنچے ، اس کے لیے یہ یقینی بنانا ہو گا کہ مسئلہ کشمیر حل ہو جائے ۔اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کے تحت کشمیر میں استصواب رائے ہونا چاہیے ، کشمیر میں اجتماعی سزا دی جا رہی ہے اور کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔انہوں نے کہا ہم اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کو پوری ذمہ داری اور اختیار کے ساتھ یقین دلاتے ہیں کہ ہم اس وقت تک انہیں اپنی مکمل سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت فراہم کرتے رہیں گے جب تک انہیں حقِ خود ارادیت کا ناقابلِ تنسیخ حق حاصل نہیں ہو جاتا۔
انہوں نے کہا کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور ہمیشہ رہے گی۔سندھ طاس معاہدے کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدہ یک طرفہ طور پر ختم کیا، اس اقدام کی کوئی حیثیت نہیں، اس فیصلے کو اقوام متحدہ اور مصالحتی عدالت نے مسترد کر دیا۔پانی کو کبھی ہتھیار نہیں بنایا جانا چاہئے ،دریاؤں کو قوموں کی پرورش کرنی چاہئے ، انہیں تقسیم نہیں کرنا چاہئے ، لہٰذا پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے ، اس میں رکاوٹ ڈالنے یا اس کا رخ موڑنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور کی جائے گی، بھارت اس بارے میں کسی غلط فہمی میں نہ رہے ۔انہوں نے کہا گزشتہ سال میں نے اسی پلیٹ فارم سے ہند رجب کی دل دہلا دینے والی داستان آپ کے سامنے رکھی تھی جو ایک معصوم فلسطینی بچی تھی اور جسے اسرائیلی فوجیوں نے بے دردی سے گولی مار دی تھی،اس سال ایک اور سانحہ ہمارے ، آپ کے اور دنیا کے دلوں پر بوجھ ہے ،یہ آٹھ سالہ وفا عقیلہ جس نے جام شہادت نوش کیا، کی غم سے نڈھال ماں کی وہ چیخیں ہیں جو ہمارے دلوں کو چیر دیتی ہیں۔
اس بے رحم جارحیت میں جس دن اسے سکول جانا تھا، افسوس کہ وہی دن اس کی زندگی کا آخری دن بن گیا،کیا غزہ میں پیدا ہونے والا بچہ دنیا کے کسی بھی دوسرے حصے میں پیدا ہونے والے بچے جیسی زندگی ،مستقبل اور خواب کا حق دار نہیں؟ ہند رجب، وفا عقیلہ اور بے شمار دیگر کے سانحات تاریخ میں ہمارے اجتماعی سکوت، ناکامی اور بے عملی کے خلاف ایک فردِ جرم کے طور پر گونجتے رہیں گے ۔ یہ انتہائی تشویشناک ہے کہ اسرائیلی تشدد اب مغربی کنارے تک پھیل چکا ہے جہاں فلسطینیوں کی جبری بے دخلی واضح طور پر اسرائیل کے اس ایجنڈے کی عکاسی کرتی ہے جسے پاکستان نسل کشی پر مبنی قرار دیتا ہے اور جو بدستور جاری ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم لبنان اور شام کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی بھی مذمت کرتے ہیں،یہ بھی فوری طور پر بند ہونی چاہئے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین بدستور تحریک طالبان پاکستان، فتنۃ الخوارج اور بی ایل اے ، فتنۃ الہندستان کے زیرِ استعمال ہے ،یہ بیرونی مالی معاونت سے چلنے والے گروہ افغانستان کے اندر موجود محفوظ پناہ گاہوں سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے مقصد سے کارروائیاں کرتے ہیں،اس صورتحال کا فوری اور مکمل خاتمہ ہونا چاہئے ۔شہباز شریف نے کہا کہ اسلاموفوبیا میں تشویشناک اضافہ انتہائی پریشان کن ہے کیونکہ مسلمانوں کو نفرت انگیز تقاریر، امتیاز، مساجد پر حملوں اور قرآنِ کریم کی بے حرمتی کا سامنا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ہماری سرحد کے بالکل دوسری جانب آر ایس ایس سے وابستہ ہندوتوا نظریہ مذہبی نفرت کو ہوا دے رہا ہے جس کے نتیجے میں بلوائیوں کا تشدد، فرقہ وارانہ فسادات، عبادت گاہوں پر حملے اور مذہبی آزادیوں پر پابندیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ قبل ازیں وزیراعظم نے یواین سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات کی جس دوران انہوں نے کثیرالجہتی نظام کے لیے پاکستان کے پختہ عزم اور عالمی امن و ترقی کے فروغ میں اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اس کے منشور کے مقاصد اور اصولوں سے پاکستان کی مضبوط وابستگی کا اعادہ کیا اور خطے اور دنیا کو درپیش سنگین چیلنجوں پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کی قیادت کو سراہتے ہوئے انسانیت کی بہتری کے لیے اقوام متحدہ کے تمام شعبوں میں یو این منشور کی پاسداری کے حوالے سے ان کے اصولی کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا۔دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال سمیت اہم علاقائی اور عالمی امور بارے تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم نے علاقائی کشیدگی کے حل کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کے حق کے لیے بھی پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔
وزیراعظم نے سیکرٹری جنرل کو اسلاموفوبیا کے بڑھتے رجحان بالخصوص پاکستان کے قریبی ہمسایہ خطے میں اس کے بڑھتے واقعات سے آگاہ کرتے ہوئے اس رجحان کی روک تھام کے لیے موثر عالمی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔دونوں رہنماؤں نے افغانستان کی صورتحال اور افغان سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی میں ہونے والے تشویشناک اضافے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائدانہ کردار و مو ثر آواز، عالمی امن و سلامتی کے لیے خدمات بالخصوص تنازع کے پرامن حل اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے پاکستان کی اہم سفارتی و ثالثی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار اور اس ضمن میں دی جانے والی قربانیوں کو بھی سراہا۔دریں اثنا شہباز شریف کی ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی سے ملاقات ہوئی جس میں خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے پرنس رحیم آغا خان پنجم سے بھی ملاقات کی۔وزیراعظم نے پرنس رحیم آغا خان پنجم کا پرتپاک خیرمقدم کیا اور رواں سال کے اوائل میں آغا خان کے دورہ پاکستان کے دوران ہونے والی اپنی ملاقات کو یاد کیا۔ شہباز شریف نے پاکستان کے ساتھ دیرینہ دوستانہ اور مثبت تعلقات کو مستحکم رکھنے کے لیے پرنس رحیم آغا خان کے عزم کو سراہتے ہوئے امن، استحکام اور ترقی کے مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے قریبی تعاون کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے ،پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں بالخصوص اسماعیلی برادری کی دیرینہ خدمات قابل تحسین ہیں،معاشرے کے لیے خدمت اور شہری شمولیت کی اس قابلِ قدر روایت کو سراہتے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments