دفترخارجہ سکینڈل، انکوائری کمیٹی کی مدت مکمل ، کام شروع نہ ہو ا
دستاویزات کی تصدیق بارے دفتر خارجہ کو چند پروسیجرل قسم کے سوالات ملے
اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی) گزشتہ دنوں پاکستان کے دفتر خارجہ میں دستاویزات اور اسناد کی تصدیق سے متعلق ایک بڑا سکینڈل سامنے آیا تھا جس میں شہریوں سے مبینہ طور پر اسناد اور دیگر کاغذات کی تصدیق میں غیر قانونی طور پر 12 ارب روپے کی کرپشن کا انکشاف ہوا تھا ، کچھ افراد کی گرفتاریاں بھی ہوئیں ،اس کے بعد نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے دو ہفتے کی اندر اپنی رپورٹ مکمل کرکے سفارشات پیش کرنا تھیں ۔ آج اس کمیٹی کو پندرہ روز مکمل ہو گئے تاہم ابھی تک کام شروع نہ ہو سکا۔
ایک اعلیٰ عہدیدار جو اس معاملے کو قریب سے دیکھ رہے ہیں نے روزنامہ دنیا کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ گزشتہ روز چند سوالات دفتر خارجہ کو موصول ہوئے لیکن وہ سوالات صرف پروسیجرل قسم کے ہیں جن میں یہ پوچھا گیا ہے کہ دفتر خارجہ میں اسناد کی تصدیق اور اس کا طریقہ کار وغیرہ کیا ہے ۔ایک دوسرے ذریعے نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ابھی تک کمیٹی اپنا کام مکمل طور پر شروع نہیں کرسکی اور اس کا وقت مکمل ہو گیا ہے ۔ 3رکنی کمیٹی کے کنوینر سیکرٹری پٹرولیم حامد یعقوب شیخ ہیں جبکہ سیکرٹری قانون راجہ نعیم اکبر اور سپیشل سیکرری خزانہ قمر سرور عباسی ممبر ہیں۔
نوٹیفکیشن میں بتایا گیا تھا کہ انکوائری کمیٹی اپنی سفارشات اور تحقیقات کے نتائج دو ہفتوں کے اندر پیش کرے گی اور وزارت خارجہ کے افسران کے ممکنہ ملوث ہونے کا تعین کرے گی اور اپوسٹیل کے نظام میں بہتری کے لیے ضروری اصلاحات بھی تجویز کرے گی تاہم ابھی تک کمیٹی نے اپنا کام مکمل تو دور کی بات پراپر شروع ہی نہیں کیا ۔ ذرائع نے دنیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جس طرح سے اس کرپشن والے معاملے کو لیا جارہا ہے ، معلوم یہی ہوتا ہے کہ حکومت اور دفتر خارجہ اس کو آگے نہیں بڑھانا چاہتے بلکہ اس معاملے کو بغیر کسی نتیجے کے ختم کرنا چاہتے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments