پختونخوا میں امن وامان کیلئے سخت فیصلوں پر مشاورت: مذاکرات سہیل آفریدی نے سبوتاژ کیے،کسی جتھے کو اسلام آباد داخل نہیں ہونے دینگے : محسن نقوی وزیراعظم ، گورنر کے پی سے ملاقاتیں
دہشت گردی کیخلاف مؤقف واضح ، امن و سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا:شہباز شریف، خدانخواستہ کوئی جان گئی تو ذمہ دار وزیراعلیٰ ہونگے ، مارچ ملتوی کرنے کی درخواست نہیں کی:وزیر داخلہ محسن نقوی اور فیصل کنڈی کاگورنر راج کے معاملے میں آئینی کردار ادا کرنے پر اتفاق ، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی حکمت عملی تیارکر لی :آئی جی ، ایمرجنسی لگانا ضروری ہوا تو لگائیں گے :گورنر پختونخوا
لاہور ،اسلام آباد(دنیا نیوز،نامہ نگار،اے پی پی)وزیراعظم شہباز شریف کی لاہور میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی رہائش گاہ پرگزشتہ روز اہم ملاقات ہوئی جس میں ملک کی مجموعی صورتحال سمیت خیبرپختونخوا میں امن و امان کیلئے سخت فیصلوں پر غورکیا گیا، ملاقات کے دوران پختونخوا میں امن و امان اور دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے آئندہ کی حکمت عملی،ممکنہ اقدامات زیر غور آئے ، امن و امان کی بحالی اور ریاستی رٹ یقینی بنانے کیلئے مختلف آپشنز اور آئندہ لائحہ عمل پر مشاورت کی گئی۔ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی نے وزیرِ اعظم کو گزشتہ شب اپوزیشن سے ہونیوالے اہم مذاکرات اور ان کی پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اورانہیں آگاہ کیا کہ پختونخوا حکومت تحریری معاہدے پر دستخط اور 72 گھنٹوں میں عملدرآمد کا منصوبہ دینے پر رضامند ہوئی تھی تاہم وہ مذاکرات کے حتمی مرحلے میں طے شدہ نکات سے پیچھے ہٹ گئی، پختونخوا حکومت نے پولیس ایکٹ 2026 پر نظرثانی پر آمادگی ظاہر کی ،پولیس اور سکیورٹی معاملات کو سیاسی مداخلت سے محفوظ رکھنے ، صوبے میں دہشت گردوں کو آزادانہ کارروائیوں اور محفوظ پناہ گاہوں سے روکنے پربھی اتفاق ہوا تھا، ٹی ٹی پی، ٹی ٹی اے اور دیگر تمام دہشت گرد گروہوں کی غیر مبہم مذمت بھی طے شدہ نکات میں شامل تھی۔
وزیر داخلہ نے وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا کہ افغان مہاجرین کی واپسی سے متعلق قومی پالیسی کی حمایت پر بھی اتفاق کیا گیا تھا، خیبرپختونخوا میں افغان مہاجر کیمپوں کے خاتمے پر بھی صوبائی حکومت نے آمادگی ظاہر کی اور عبوری افغان حکومت کے ساتھ صوبائی سطح پر رابطہ نہ رکھنے پر بھی اتفاق کیا تھا،انسداد دہشت گردی آپریشنز اور پولیس کیلئے خاطر خواہ فنڈز مختص کرنے کا معاملہ بھی معاہدے کا حصہ تھا، انسداد دہشت گردی اقدامات کی مکمل صوبائی ذمہ داری اور مسلح افواج کے ساتھ مضبوط تعاون پر اتفاق ہوا تھا۔ذرائع کے مطابق محسن نقوی نے وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ سابق فاٹا اور ضم شدہ اضلاع میں انسداد دہشت گردی سے متعلق اہم فیصلوں پر عملدرآمد بھی طے پایا تھا، نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عملدرآمد بھی طے شدہ نکات میں شامل تھا، صوبہ اس وقت انتہائی سنگین سکیورٹی صورتحال سے دوچار ہے ، سکیورٹی معاملات کو سیاست کی نذر نہیں کیا جاسکتا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کیلئے کیے فیصلوں پر سختی سے عملدرآمد کرانا ہوگا، کسی کو ملک یا صوبے کا امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، دہشت گردی کے خلاف ریاست کا مؤقف واضح ہے ، امن و سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔علاوہ ازیں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے محسن نقوی سے ان کے ماموں اکمل حسین نقوی کی وفات پر تعزیت کا اظہار کیا اور مرحوم کیلئے فاتحہ خوانی کی ۔ دریں اثنا اساتذہ کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی کا دارومدار ہمارے نظامِ تعلیم کے معیار اور بالخصوص قابل اساتذہ کی عزم و محنت پر ہے ، نظام تعلیم کو قابلیت شناس، معیاری اور عالمی تقاضوں کے مطابق بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے ، ملک کے طول و عرض میں دانش سکول دراصل معیاری تعلیم کو قابل اور باصلاحیت طلبا کی دسترس میں رکھنے کی کاوش ہے ، عالمی یومِ اساتذہ پر میں اساتذہ کو دلی خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔
لاہور،پشاور،اسلام آباد (دنیا نیوز،مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی )وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی مذاکراتی کمیٹی نے خلوص نیت سے مذاکرات کیے ، ایک بہت اچھا معاہدہ تیار ہوا مگر وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے مذاکرات سبوتاژ کر دیئے ، خدانخواستہ اگر کوئی جان گئی تو ذمہ دار سہیل آفریدی ہوں گے ،کسی بھی جتھے کو کسی صورت اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی، ہم ہر حال میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم بحال کروائیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف کارروائی ہو گی،اپوزیشن مذاکراتی کمیٹی کے ارکان کا شکریہ ادا کرتا ہوں، بہت اچھا معاہدہ تیار ہوا تھا، ایک دو چیزوں پر اختلاف تھا لیکن 99 فیصد چیزوں پر اتفاق ہو چکا تھا، جب صدر سے ملاقات کے بعد واپس آیا تو ڈرافٹ میں بہت ساری تبدیلیاں بتائی گئیں، 4 بار ڈرافٹ تیار اور 4بارتبدیل ہوا،بدقسمتی سے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ڈرافت تیار ہونے پر کہا کہ ہم نہیں مانتے ، تمام فیصلے انہوں نے کرنے تھے تو خود مذاکرات میں شریک ہوتے ۔محسن نقوی نے کہا کہ ہم نے کہا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف مل کر کام کرتے ہیں، ہم نے لانگ مارچ ملتوی کرنے کی درخواست نہیں کی، پیپلزپارٹی کی خواہش تھی لانگ مارچ ملتوی ہو، اگر معلوم ہوتا کہ پختونخوا حکومت مذاکرات ویٹو کردے گی تو ہم مذاکرات ہی نہ کرتے ، جب آپ غیر سنجیدہ اور نا سمجھ لوگ اس قسم کی سیٹوں پر بٹھاتے ہیں تو اس کا نقصان ملک کو ہوتا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ایک چیز تو بالکل واضح ہے کہ ہم کسی صورت 9 مئی جیسا سانحہ دوبارہ نہیں ہونے دیں گے چاہے آپ کسی بھی صورت میں آ جائیں۔وزیرداخلہ نے کہا کہ اپوزیشن وفد پر واضح کردیا تھا کہ آپ نے احتجاج کرنا ہے تو بالکل کریں لیکن ہم اسلام آباد پر دھاوا بولنے کی کسی صورت اجازت نہیں دیں گے ،احتجاج میں شریک جو بھی ورکر یا رہنما گرفتار ہوا اس کے خلاف بھرپور قانونی کارروائی ہوگی، اگر پی ٹی آئی والوں نے قانون شکنی کی تو ہم انہیں چھوڑیں گے نہیں بلکہ ان کے پیچھے جائیں گے ۔ علاوہ ازیں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’ایکس ‘‘پر اپنے بیان میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ گزشتہ رات آخری مرحلے میں پختونخوا حکومت نے مذاکرات کے دوران کیے وعدوں سے انکار کردیا، صوبہ حالتِ جنگ میں ہے ، اس نازک وقت میں سکیورٹی کو سیاست کی بھینٹ نہیں چڑھاناچاہیے ، وزیر داخلہ نے معاہدے کے مجوزہ نکات بھی شیئر کئے ۔ دوسری طرف وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی پشاور پہنچ گئے ، جہاں اُنھوں نے گورنر ہاؤس میں گورنر فیصل کریم کنڈی سے اہم ملاقات کی ،اس دوران پختونخوا کو دہشت گردی سے بچانے اورگورنر راج کے معاملے میں آئینی کردار ادا کرنے پر اتفاق کیا گیا جبکہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال ، پی ٹی آئی کے لانگ مارچ پر غور کیا گیا ، چیف سیکرٹری ، آئی جی پختونخوا ذوالفقار حمید بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ اعلامیے کے مطابق ملاقات میں اتفاق ہوا کہ صدر اور وزیراعظم گورنر راج یا ایمرجنسی ضروری سمجھیں تو گورنر ہاؤس آئینی کردار ادا کرے گا،پی ٹی آئی کے لانگ مارچ میں سرکاری ہیلی کاپٹر اور وسائل کا استعمال عدالتی فیصلوں کی خلاف ورزی ہوگی۔
ذرائع کے مطابق آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے وفاقی وزیرداخلہ کو بریفنگ میں بتایا کہ پختونخوا میں غیریقینی صورتحال پر پولیس الرٹ ہے ، مختلف اضلاع سے پولیس اہلکار پولیس لائنزطلب کر لئے ہیں، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی حکمت عملی تیار کرلی ۔ادھر گورنر فیصل کریم کنڈی نے ’’ایکس‘‘پر جاری بیان میں کہا ہے کہ پی ٹی آئی خود کو دہشت گردی کی سہولت کاری کرنے والی جماعت کے طور پر بے نقاب کر رہی ہے ،پی ٹی آئی کے اقدامات اور بار بار سمجھوتوں پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں، سوال ہے کیا پی ٹی آئی دہشت گردوں کے آزادانہ آپریشن کے ماحول کی سہولت کاری کر رہی ہے ؟، صوبائی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے سکیورٹی وعدوں سے پیچھے ہٹنے کا راستہ اختیار کیا، صوبائی حکومت کو اپنے عوام کے تحفظ کو اولین ترجیح بنانا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کا سکیورٹی وعدوں سے پیچھے ہٹنا شرمناک اقدام اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پیچھے ہٹنا بزدلی کے مترادف ہے ۔علاوہ ازیں اپنے ایک بیان میں گورنر پختونخوا نے کہا کہ صوبہ بچانے کیلئے ایمرجنسی لگانا ضروری ہوا تو ضرور لگائیں گے اور اگر ایمرجنسی لگی تو میں اکیلا ہی پی ٹی آئی کیلئے کافی ہوں، میں ان کی طرح بڑ ھکیں نہیں مارتا، میدان لگا تو ان کو دیکھ لوں گا۔گورنر نے کہا کہ کیا لانگ مارچ ہو رہا ہے ؟،صوابی پار کرکے تو دکھائیں، ایک مہینہ لگ جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوگا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments