پروبیشن پر تعینات ملازم کو مستقل تقرری کا حق حاصل نہیں : وفاقی آئینی عدالت
پروبیشن کامقصد ملازم کی صلاحیت اورکارکردگی جانچنا، اس دوران ملازمت ختم کرنا برطرفی کے مترادف نہیں ہوتا آئینی دائرہ اختیار کے ذریعے ایسا حق پیدا نہیں کیا جاسکتا جو قانوناً موجود ہی نہ ہو:تفصیلی فیصلہ،نمل کی راحت کیخلاف اپیل منظور
اسلام آباد (حسیب ریاض ملک)وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ پروبیشن پر تعینات ملازم کو ملازمت پر مستقلی یا ملازمت جاری رکھنے کا کوئی مستقل یا حاصل شدہ حق حاصل نہیں ہوتا، جبکہ غیر تسلی بخش کارکردگی کی بنیاد پر پروبیشن کی مدت کے دوران ملازمت ختم کرنا عموماً برطرفی یا ملازمت سے اخراج کے مترادف نہیں ہوتا۔چیف جسٹس امین الدین خان، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل تین رکنی بینچ نے ڈائریکٹر جنرل نمل اور دیگر کی راحت محمود کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے بلوچستان ہائی کورٹ کا 31 مارچ 2026 کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور پروبیشن کے دوران غیر تسلی بخش کارکردگی پر راحت محمود کی ملازمت ختم کرنے کا حکم بحال کردیا۔وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ پروبیشن کا مقصد آجر کو یہ جانچنے کا مناسب موقع دینا ہے کہ ملازم مطلوبہ صلاحیت، موزونیت اور کارکردگی رکھتا ہے یا نہیں اور آیا اس کی ملازمت جاری رکھنا ادارے کے مفاد میں ہے۔
عدالت نے اپنے تفصیلی تحریری فیصلہ میں قرار دیا کہ عام حالات میں صرف غیر تسلی بخش کارکردگی کی بنیاد پر پروبیشنر کی ملازمت ختم کرنے سے پہلے سماعت کا حق کا اصول لاگو نہیں ہوتا، تاہم اگر ملازمت ختم کرنے کی بنیاد بدعنوانی یا کسی ایسے مس کنڈکٹ کا الزام ہو جو ملازم کے مستقبل پر منفی اثر ڈال سکتا ہو تو شوکاز نوٹس اور قانونی تقاضوں کے مطابق کارروائی ضروری ہوگی،عدالت نے قرار دیا کہ پروبیشنر کی ملازمت ختم ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کسی بھی پیشہ ورانہ کردار کے لیے نااہل ہے ، ممکن ہے کسی دوسرے شعبے میں اس کی صلاحیتیں بہتر طور پر سامنے آئیں، عدالت نے قرار دیا کہ پروبیشنر کو مستقلی کا کوئی حاصل شدہ حق حاصل نہیں ہوتا اور آئینی دائرہ اختیار کے ذریعے ایسا حق پیدا نہیں کیا جاسکتا جو قانوناً موجود ہی نہ ہو۔وفاقی آئینی عدالت نے نمل کی درخواست کو اپیل میں تبدیل کرتے ہوئے منظور کرلیا اور بلوچستان ہائی کورٹ کا 31 مارچ 2026 کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments