جھوٹی ایف آئی آرز میں اصل کمال پولیس کا ہوتا :سپریم کورٹ

جھوٹی ایف آئی آرز میں اصل کمال پولیس کا ہوتا :سپریم کورٹ

ملزمان کی ضمانت پر نظام کو الزام دیا جاتا :جسٹس نعیم خترافغان کے ریمارکس عدالت نے مقدمہ کے حالات کا جائزہ لیکرملزم منظور حسین کی ضمانت منظورکرلی

اسلام آباد (کورٹ رپورٹر)سپریم کورٹ نے قتل کے مقدمے میں ملزم منظور حسین کی ضمانت منظور کرتے ہوئے جھوٹی ایف آئی آرز کے اندراج اور اس کے نتیجے میں ملزمان کے بری ہونے کے معاملے پر اہم ریمارکس دیئے ہیں۔جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے مقدمے کی سماعت کی۔دوران سماعت جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیئے کہ ملزمان کی ضمانت پر نظام کو الزام دیا جاتا ہے ، حالانکہ جھوٹی ایف آئی آرز کی وجہ سے ملزمان بری ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نظام آج بھی کام کر رہا ہے ۔جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ جھوٹی ایف آئی آرز میں اصل کمال پولیس کا ہوتا ہے ۔عدالت نے مقدمے کے حالات و واقعات کا جائزہ لینے کے بعد ملزم منظور حسین کی ضمانت منظور کرلی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...