خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگانے پر اتفاق : ایوان صدر میں زرداری، شہباز شریف ملاقات، آج وفاقی کابینہ فیصلہ کرسکتی، منگل کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ، صوبے میں ہنگامہ آرائی سے نمٹنے کی تیاریاں

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگانے پر اتفاق : ایوان صدر میں زرداری، شہباز شریف ملاقات، آج وفاقی کابینہ فیصلہ کرسکتی، منگل کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ، صوبے میں ہنگامہ آرائی سے نمٹنے کی تیاریاں

دہشتگردی کیخلاف خیبرپختونخوا حکومت وفاق کیساتھ تعاون نہیں کر رہی،پولیس ایکٹ پر نظرثانی نہ ہونے سے مسائل بڑھ رہے : اجلاس میں بریفنگ،ملاقات میں وزرا، پی پی رہنما بھی شریک آئین کے آرٹیکل 232 سے 234 کے تحت مختلف آپشنز پر تبادلہ خیال،امن و سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا:صدر، وزیراعظم،اینٹی رائٹ پولیس کی مشقیں، آنسو گیس کے مزید 5ہزار شیل منگوالئے

اسلام آباد(خصوصی نیوز رپورٹر،سٹاف رپورٹر،نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ملاقات میں خیبر پختونخوا میں ایمر جنسی پر اتفاق ، آج وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا گیا جبکہ منگل کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس طلب کرنیکا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کے تناظر میں ایوان صدر میں ہونے والی ملاقات میں وزیراعظم شہباز شریف کی معاونت نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ اور وفاقی وزیر سینیٹر احد چیمہ ،مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ اور اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کی۔صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے سینیٹر شیری رحمان، سید نوید قمر، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور ڈاکٹر عاصم اجلاس میں شریک ہوئے۔

ایوانِ صدر سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں ملک کی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس 13 اکتوبر کو طلب کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں قومی سلامتی کے اداروں کی رپورٹس کا بھی جائزہ لیا گیا جبکہ ضم شدہ اضلاع سمیت خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ اور خیبرپختونخوا میں عوام کے تحفظ کیلئے وفاق کے اہم اختیارات استعمال کرنے کی تجاویز پر غور اور آئین کے آرٹیکل 232 سے 234 کے تحت مختلف آپشنز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں خیبرپختونخوا سے متعلق اہم فیصلے کئے گئے ۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی جانب سے صوبے میں امن و امان اور سکیورٹی کی صورتحال پربھجوائی گئی رپورٹ پر غور کیا گیا،جس کے بعد وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگانے کا فیصلہ کرلیا، وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس آج صبح ساڑھے 9 بجے طلب کرلیا گیا جس میں مختلف آئینی آپشنز پر غور کیا جائے گا جبکہ ایمرجنسی کی تجویز منظورکیے جانے کا امکان ہے۔

ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کیلئے ہی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا بھی اجلاس طلب کیا گیا ہے ۔ایوان صدر میں ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ کسی صورت حالات بگڑنے نہیں دئیے جائیں گے ، امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کیلئے کیے گئے فیصلوں پر سختی سے عملدرآمد کرانا ہوگا۔ذرائع کے مطابق صدر مملکت اور وزیراعظم نے اتفاق کیا کہ کسی کو ملک یا صوبے کا امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، دہشت گردی کے خلاف ریاست کا مؤقف واضح ہے اور امن و سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔اجلاس میں خیبرپختونخوا میں امن و امان اور دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے سخت اقدامات کا اصولی فیصلہ کیا گیا۔ذرائع کے مطابق اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے میں دہشت گردوں کی آزادانہ کارروائیوں اور ان کی محفوظ پناہ گاہوں کو روکنے کیلئے اقدامات نہیں ہو رہے اور خیبرپختونخوا حکومت وفاق کے ساتھ تعاون نہیں کر رہی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ نیشنل ایکشن پلان پر بھی مؤثر عملدرآمد نہیں ہو رہا، پولیس ایکٹ 2026 پر نظرثانی نہ ہونے سے مسائل بڑھ رہے ہیں جبکہ پولیس اور سکیورٹی معاملات میں سیاسی مداخلت میں اضافہ ہوا ہے ۔دریں اثنا خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کیخلاف ممکنہ احتجاج اور ہنگامہ آرائی سے نمٹنے کی تیاریاں شروع کردی گئیں، پولیس کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے ، پولیس کے اینٹی رائٹس دستے نے مشقیں شروع کردیں۔ذرائع کے مطابق پشاور پولیس نے ممکنہ احتجاجی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیاریاں تیز کردی ہیں۔ پولیس کے پاس پہلے سے آنسو گیس کے 5 ہزار شیل موجود تھے ، تاہم مزید 5 ہزار شیل منگوا لیے گئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پشاور میں احتجاجی مظاہرین سے نمٹنے کیلئے قائم 400 اہلکاروں پر مشتمل پولیس دستے نے بھی اپنی تیاریاں شروع کردی ہیں۔آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے خصوصی حکم نامہ جاری کیا ہے جس میں تمام اہلکاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی بھی ہنگامہ آرائی یا احتجاج کے دوران سرکاری تنصیبات، عمارتوں اور املاک کو کسی صورت نقصان پہنچانے کی اجازت نہ دی جائے ۔ عوام کو بھی خبردار کیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی غیرقانونی اجتماع، پُرتشدد سرگرمی یا اشتعال انگیزی کا حصہ بننے سے گریز کریں، بصورتِ دیگر قانون کے مطابق سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے گی۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...