ملکی وسائل چند ہاتھوں میں محدود، منصفانہ تقسیم ناگزیر:قومی مکالمہ

ملکی وسائل چند ہاتھوں میں محدود، منصفانہ تقسیم ناگزیر:قومی مکالمہ

نئی نسل باشعور، اب بھی وقت ہے معاملات درست کئے جائیں: ملک احمد، شاہد خاقان صحت، تعلیم کو ترجیح دینا ہوگی: فواد چودھری، فواد حسن، معید یوسف و دیگر کا اظہار خیال

لاہور (سیاسی نمائندہ، سٹاف رپورٹر سے ) یونیورسٹی آف لاہور میں ‘‘جنریشنز اِن ٹرانزیشن: چیلنجز، امنگیں اور پاکستان کا مستقبل’’ کے عنوان سے قومی مکالمہ کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق وفاقی وزیر فواد چودھری، سابق بیوروکریٹ فواد حسن فواد، وائس چانسلر ڈاکٹر معید یوسف، ایئر کموڈور (ر) خالد چشتی، ڈاکٹر سویرا مجیب شامی اور دیگر شخصیات نے نوجوانوں کے مسائل، تعلیم، روزگار، سیاسی شمولیت، غربت، میرٹ، خواتین کے مساوی مواقع اور قومی وسائل کی منصفانہ تقسیم پر اظہار خیال کیا۔ملک محمد احمد خان نے کہا کہ پاکستان میں وسائل چند ہاتھوں میں محدود ہوگئے ہیں اور مڈل کلاس کیلئے گنجائش کم کردی گئی ہے۔

عالمی بینک کی رپورٹ کے اعداد و شمار خوفناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں، وسائل اور اختیار پر اشرافیہ کا قبضہ دیکھا جاسکتا ہے ۔ قومی وسائل کی تقسیم میں آبادی کے ساتھ تعلیم، صحت اور ترقیاتی ضروریات کو بھی مدنظر رکھا جائے ، پالیسیوں میں اصلاحات ضروری ہیں۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نوجوان نسل کو سننے اور سمجھنے کی ضرورت ہے ، جنریشن زی اور حکمرانوں کے درمیان فاصلہ ختم کرنا ہوگا۔ نوجوانوں کیلئے ملک میں مواقع پیدا کرنا حکمرانوں کی ذمہ داری ہے ۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے ، نئی نسل کی صحت اور تعلیم سے متعلق رپورٹس تشویشناک ہیں، اس لئے صحت اور تعلیم کو اولین ترجیح دینا ہوگی۔ اب بھی وقت ہے کہ معاملات درست کئے جائیں، مسائل کی بنیادی وجہ پالیسیوں اور نظام کی خرابیاں ہیں۔فواد چودھری نے کہا کہ نوجوان نسل اور جنریشن زی کی سیاسی شمولیت کا کریڈٹ عمران خان کو جاتا ہے ، نوجوانوں کو بااختیار بنانا اور سیاسی عمل میں شریک کرنا ضروری ہے۔

فواد حسن فواد نے کہا کہ مسائل کے حل کیلئے نعروں کے بجائے زمینی حقائق کا جائزہ اور پالیسیوں پر مؤثر عملدرآمد ضروری ہے ۔ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ نوجوانوں کو صرف معلومات فراہم کرنا کافی نہیں بلکہ درست سوچنے ، معلومات کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت دینا ہوگی۔ خالد چشتی نے کہا کہ مسائل اور غلطیوں کا ذکر کرنے کے بجائے حل کی طرف بڑھنا ہوگا، محض تجاویز دینا کافی نہیں، ذمہ داری قبول کرنا بھی ضروری ہے ۔ڈاکٹر سویرا مجیب شامی نے کہا کہ خواتین کو تعلیم کے ساتھ عملی زندگی میں آگے بڑھنے کے مساوی مواقع فراہم کرنا ضروری ہے ۔ سفارش کلچر ختم کرنے اور ماضی کے اہم واقعات سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے ، نظام کی تبدیلی کیلئے تقاریر کے بجائے عملی اقدامات اور جواب دہی ضروری ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...