پٹرولیم مصنوعات اور گندم کی قیمتوں میں اضافے کے باعث شرح سود5.11سے بڑھا کر12 فیصد مقرر

پٹرولیم مصنوعات اور گندم کی قیمتوں میں اضافے کے باعث شرح سود5.11سے بڑھا کر12 فیصد مقرر

مہنگائی 7 فیصد ،ترقی کی شرح 4 فیصدتک رہنے کا امکان ،کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافے کاخدشہ،بیرون ملک جانیوالے پاکستانی ورکرز کی تعدادمیں کمی :گورنر سٹیٹ بینک فیصلے سے معاشی استحکام کی کوششوں کو دھچکا پہنچے گا:عاطف اکرام شیخ، صنعتوں کیلئے مشکلات بڑھیں گی:صنعت کار ایسوسی ایشن،پالیسی ریٹ سنگل ڈیجٹ میں لانے کا مطالبہ

لاہور،کراچی(کامرس رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا ایران کشیدگی سے ملکی معیشت پر منفی اثرات اور گندم و پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث سٹیٹ بینک نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے شرح سود میں 50بیسز پوائنٹس کا اضافہ کردیا، جس کے بعد بنیادی شرح سود 11.5 فیصد سے بڑھ کر 12 فیصد ہوگئی،یہ جون 2026 کے بعد سٹیٹ بینک کی جانب سے شرحِ سود میں پہلا اضافہ ہے ۔ گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد کی زیرصدارت مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں عالمی اور ملکی معاشی صورتحال، مہنگائی، بیرونی شعبے اور معاشی نمو کے اعدادوشمار کا جائزہ لینے کے بعد شرح سود میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے تمام 9 ارکان نے شرح سود بڑھانے کے حق میں ووٹ دیا ۔

سٹیٹ بینک ہیڈ آفس میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے گورنرجمیل احمد نے کہا کہ امریکا ایران کشیدگی کے باعث ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں، جبکہ عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے توانائی کی لاگت بڑھی ہے ،جغرافیائی کشیدگی نے ملکی معاشی ترقی کی رفتار کو بھی متاثر کیا ہے ،ملک میں مہنگائی کی شرح 7 فیصد کے قریب رہنے کا امکان ہے ، جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے صفر سے ایک فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے ، ملکی درآمدات میں اضافے کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ سکتا ہے ، مالی سال کے دوران ملکی درآمدات کا تخمینہ 71 ارب ڈالر جبکہ برآمدات 32 سے 33 ارب ڈالر کے درمیان رہنے کی توقع ہے ۔انہوں نے بتایا کہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ترسیلات زر کی آمد تقریباً 10 ارب 90 کروڑ ڈالر رہی، جبکہ مجموعی ترسیلات زر میں مزید بہتری کی توقع ہے ،ترسیلات زر کا سالانہ ہدف 44 ارب ڈالر سے بڑھا کر 45 ارب ڈالر کردیا گیا ہے ، گزشتہ پانچ سال کے دوران ترسیلات زر 21 ارب ڈالر سے بڑھ کر 40 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی ہیں، جبکہ ایکسچینج کمپنیوں میں اصلاحات کے باعث ترسیلات زر کی آمد میں مسلسل بہتری آرہی ہے ۔گورنر سٹیٹ بینک نے کہا کہ بیرون ملک جانے والے پاکستانی ورکرز کی تعداد گزشتہ دو سال کے دوران کم ہوئی ہے ، جبکہ 2023 سے 2025 کے درمیان بہترین مہارت رکھنے والے ورکرز کی تعداد میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی، بیرون ملک روزگار کے مواقع اور ہنرمند افرادی قوت میں اضافے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے ۔معاشی شرح نمو کے حوالے سے جمیل احمد نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث معاشی ترقی متاثر ہوئی ہے ، تاہم ملکی ترقی کی سالانہ شرح 3.5 سے 4 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے ،مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں زرعی پیداوار میں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے ، جبکہ مجموعی طور پر ملکی میکرو اکنامک صورتحال بتدریج بہتر ہورہی ہے ۔گورنر سٹیٹ بینک نے بتایا کہ ملکی زرمبادلہ ذخائر بڑھ کر ساڑھے 21 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں اور آنے والے دنوں میں ذخائر میں مزید بہتری کی توقع ہے ، دسمبر تک زرمبادلہ ذخائر 23 ارب ڈالر جبکہ آئندہ سال 25 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے ،زرمبادلہ ذخائر کی موجودہ سطح عالمی بینچ مارک کے قریب پہنچ چکی ہے ،جبکہ ملک کا مجموعی غیر ملکی قرض تقریباً 107 ارب ڈالر ہے جس پر تقریباً 11 ارب ڈالر سود ادا کیا جاتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ بیرونی شعبے میں استحکام کے لیے زرمبادلہ ذخائر کو مزید مضبوط بنانا ضروری ہے ، پہلی سہ ماہی میں ترسیلات زر تقریباً 11 ارب ڈالر کے قریب رہی ہیں،جعلی کرنسی نوٹوں کی روک تھام کے لیے نئے سکیورٹی فیچرز متعارف کرانے پر کام جاری ہے جبکہ ڈیجیٹل ادائیگیوں میں سائبر حملوں اور سائبر کرائم کی روک تھام کے لیے بھی اقدامات کیے جارہے ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ پٹرولیم سبسڈی فراہم کرنے سے عوام کو ریلیف ملا ہے ، پاکستان سالانہ 6 سے 7 ملین ٹن کھاد درآمد کرتا ہے جبکہ یوریا اور ڈی اے پی کی مجموعی کھپت تقریباً 8 ملین ٹن ہے ،یوریا اور ڈی اے پی کی طلب و رسد کے حوالے سے اس وقت کوئی بڑا مسئلہ درپیش نہیں۔گورنر سٹیٹ بینک نے کہا کہ جغرافیائی کشیدگی کے باعث ملکی ترقی کی رفتار متاثر ہوئی ہے ، تاہم معاشی استحکام کے لیے حکومت اور متعلقہ ادارے اقدامات کررہے ہیں۔دریں اثنا تاجروں اور صنعتکاروں نے شرح سود بڑھنے پر اظہار تشویش کرتے ہوئے پالیسی ریٹ سنگل ڈیجٹ میں لانے کا مطالبہ کیا ہے ۔

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے کہا مانیٹری پالیسی میں مزید سختی سے معاشی استحکام کی جاری کوششوں کو شدید دھچکا لگے گا، صنعتی ترقی کی رفتار متاثر ہوگی اور عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی برآمدی مسابقت مزید کمزور ہوگی۔انہوں نے کہا ایسے وقت میں جب مقامی صنعتکار اور کاروباری ادارے پہلے ہی غیر معمولی پیداواری اخراجات، یوٹیلیٹی ٹیرف میں اضافے اور شدید مالیاتی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، قرضوں کی لاگت میں مزید اضافہ ایک نامناسب فیصلہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں کاروباری شعبے کو سستے قرضوں اور معاشی مراعات کی اشد ضرورت ہے ؛ تاکہ مقامی پیداوار میں اضافہ، کاروباری سرگرمیوں کا تسلسل اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جاسکیں۔ جبکہ مسلسل بلند شرحِ سود نے قرض لینے کو کاروبار کے لیے سہولت کے بجائے ایک ناقابلِ برداشت مالی بوجھ بنا دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی کی بڑی وجوہات رسد کے نظام میں ساختی رکاوٹیں، توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور مالیاتی بے ضابطگیاں ہیں، نہ کہ محض مجموعی طلب میں اضافہ۔ ایسے حالات میں سخت مانیٹری پالیسی نے مقامی صنعتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے ۔فیڈرل بی ایریا ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (فباٹی)کے صدر سید رضا حسین نے کہا ہے کہ اس اقدام سے پاکستان کی برآمدی اور ایس ایم ایز سیکٹر کے لیے عالمی مارکیٹوں میں حریف ممالک کے ساتھ مسابقت انتہائی مشکل ہوجائے گی۔انہوں نے کہا شرح سود میں اضافہ صنعتی شعبے کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گا، بلند شرح سود کے باعث کاروباری اداروں کے لیے قرض کا حصول مہنگا ہونے سے نئی سرمایہ کاری، صنعتوں کے توسیعی مراحل اور پیداواری سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے ۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ صنعتی شعبے کے تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی معاشی پالیسیوں پر نظرثانی کرے ۔

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...