احتجاج یا مذاکرات؟ تحریک انصاف آج فیصلہ کرے گی
پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائیگا:علی ظفر پارلیمانی پارٹی پارلیمانی امور پر فیصلے کرتی ، حتمی اختیارعمران کا:بیرسٹر گوہر
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، آئی این پی)تحریک انصاف آج پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں آئندہ کی حکمت عملی طے کرے گی۔ بیرسٹر علی ظفر کے مطابق اجلاس میں حکومت سے مذاکرات یا احتجاج کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا، جبکہ بانی پی ٹی آئی تک رسائی، خواتین کی رہائی، علاج اور اہم سیاسی و تنظیمی امور پر بھی غور ہوگا۔دوسری جانب اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ترجمان اخوانزادہ حسین یوسفزئی نے کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی ملک کو بحرانوں سے نکالنے کیلئے وزیراعظم ہاؤس جانے کو تیار ہیں۔
انہوں نے حکومت کو ایک مرتبہ پھر سنجیدہ مکالمے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اطلاعات کو مذاکرات کے بنیادی نکات کا علم نہیں، انہیں بیان دینے سے پہلے حکومتی مذاکراتی ٹیم کے دیگر ارکان سے بات کرلینی چاہیے ۔ترجمان نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں کون پیچھے ہٹا، اس کی حقیقت سامنے آنی چاہیے ۔ محمود اچکزئی حکومت سے بامعنی مذاکرات کیلئے تیار ہیں اور اپوزیشن اتحاد نے بات چیت کا دروازہ بند نہیں کیا۔ادھر تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے علی ظفر کے اس بیان کی تردید کی کہ آئندہ تمام فیصلوں کا اختیار پارلیمانی پارٹی کو دے دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کور کمیٹی، پولیٹیکل کمیٹی اور پارلیمانی پارٹی الگ فورمز ہیں، پارلیمانی پارٹی صرف پارلیمانی معاملات پر فیصلے کرتی ہے جبکہ اس کے فیصلے کور کمیٹی اور پولیٹیکل کمیٹی میں پیش کئے جاتے ہیں۔ حتمی فیصلوں کا اختیار بانی پی ٹی آئی کے پاس ہے ۔دریں اثنا اسد قیصر نے ایکس پر بیان میں کہا کہ 15 دن گزرنے کے باوجود وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، سپیکر بابر سلیم سواتی، پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر خان، گلگت بلتستان کے سابق وزیراعلیٰ خالد خورشید اور متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کے بارے میں واضح معلومات سامنے نہیں آئیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کسی پر الزام ہے تو اسے قانون کے مطابق عدالت میں پیش کرکے صفائی کا حق دیا جائے ۔پی ٹی آئی رہنما مینا خان آفریدی نے بھی دعویٰ کیا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، سپیکر بابر سواتی، صوبائی وزرا، ارکان اسمبلی اور سینکڑوں کارکن کئی دنوں سے لاپتا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گورنر راج دہشتگردی کے خاتمے کیلئے لگایا گیا تھا، تاہم دہشتگردی میں اضافہ ہورہا ہے اور اب تک اس حوالے سے واضح پالیسی سامنے نہیں آئی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments