سینیٹ میں تلخ کلامی ، پیپلزپارٹی کا واک آؤٹ
شیری رحمان،ناصر بٹ میں سخت جملوں کا تبادلہ، جنرل عبدالوحید کیلئے فاتحہ خوانی
اسلام آباد(نیوز رپورٹر)سینیٹ نے یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر متفقہ قرارداد منظور کرلی جبکہ ایوان کی کارروائی کے دوران پیپلزپارٹی کی سینٹر شیری رحمان اور ن لیگ کےناصر بٹ کے درمیان تلخ کلامی ہوئی ،پیپلزپارٹی سینیٹ سے واک آوٹ کر گئی ، یوم سیاہ پر قرار داد میں بھارتی افواج کے جموں و کشمیر میں داخلے کو علاقے کی تاریخ کا ایک اہم اور سیاہ موڑ قرار دیتے ہوئے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا گیا ہے ، قرارداد وفاقی وزیر امور کشمیر امیر مقام نے پیش کی ، قرارداد میں اقوام متحدہ پر زور دیا گیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع پر اپنی منظور کردہ قراردادوں پر عمل درآمد کے لیے مؤثر کردار ادا کرے ۔ دریں اثنا سینیٹ نے شیری رحمان کا پیش کردہ پلاسٹک بک کورز پر پابندی کے قانون میں ترمیم کا بل متفقہ طور پر منظور کر لیا ، شیری رحمان نے بل پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کی بعض بڑی دکانوں پر اب بھی کتابوں پر پلاسٹک کور کا استعمال جاری ہے ،انہوں نے کہا کہ اس نئی ترمیم کا بنیادی مقصد پلاسٹک بک کورز سے متعلق قانونی ابہام کو دور کرنا ہے ، اب اسلام آباد میں کتابوں پر ہر قسم کے پلاسٹک کے استعمال پر مکمل پابندی ہوگی اور اس حوالے سے کسی بھی شخص کو کوئی استثنیٰ حاصل نہیں ہوگا،اجلاس میں شیری رحمان اور ناصر بٹ میں تلخ کلامی ہوئی جس پر شیری رحمان ایوان سے چلی گئیں، ان کے بعد پیپلز پارٹی کے اراکین بھی ایوان سے نکل گئے ،سینیٹر اعظم خان سواتی نے ایوان میں کہا کہ میں جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کا جنازہ پڑھ کر آرہا ہوں، ان کے بارے میں سنا ہے وہ بڑے اصول پسند انسان تھے ، یہ ملک آئین اور قانون کے مطابق چلے گا تو ملک آگے چلے گا،سینیٹ میں ان کی روح کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کروائی گئی، اِس وقت اجلاس میں حکومتی بینچوں پر صرف دو ارکان بیٹھے ہوئے تھے ،بعدازاں نجی ہسپتالوں میں مریضوں سے من مانے اخراجات کی وصولی، پوشیدہ چارجز اور علاج سے پہلے ایڈوانس رقم طلب کرنے کی روک تھام کے لیے بل سینیٹ سے منظور کر لیا گیا۔ اسلام آباد کنزیومر پروٹیکشن ترمیمی بل 2026 کے تحت نجی ہسپتالوں، کلینکس اور لیبارٹریز کو کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ کے دائرے میں لانے کی منظوری دی گئی ۔بل کے متن کے مطابق جان بچانے والے ہنگامی علاج سے پہلے مریض سے کسی بھی قسم کی پیشگی رقم یا ایڈوانس ڈیپازٹ طلب نہیں کیا جا سکے گا۔ ہر مریض کو ٹیسٹ، ادویات اور طبی طریقۂ علاج کی الگ الگ قیمتوں پر مشتمل تفصیلی بل دینا بھی ضروری ہوگا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments