پانچ سال میں11ہزار ارب کی ٹیکس چھوٹ،چینی درآمد پر54ارب خرچ

پانچ سال میں11ہزار ارب کی ٹیکس چھوٹ،چینی درآمد پر54ارب خرچ

انکم ٹیکس کی مد میں 580ارب ، سیلز ٹیکس میں 1274ارب اور کسٹم ڈیوٹی میں 499ارب روپے کی چھوٹ دی گئی یوریا کھاد قیمت 4500روپے بوری برقرار، مشرق وسطیٰ جنگ کے باعث ڈی اے پی 17ہزار تک پہنچ گئی اسمبلی وقفہ سوالات

اسلام آباد (سید قیصر شاہ، اسلم لڑکا) قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران تحریری جواب میں انکشاف کیا گیا کہ گزشتہ پانچ مالی سال کے دوران 11 ہزار ارب روپے سے زائد کی ٹیکس چھوٹ دی گئی جبکہ ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان نے 54 ارب 15 کروڑ روپے کیلاگت سے 3 لاکھ 6 ہزار 737 میٹرک ٹن چینی درآمد کی۔ وزارت خزانہ کے مطابق 31 اگست 2026ء تک ورکرز ویلفیئر فنڈ میں 315 ارب 30 کروڑ روپے سے زائد موجود تھے ۔ مالی سال 2020-21ء میں 1482 ارب 31 کروڑ روپے ، 2021-22ء میں 2239 ارب ، 2022-23ء میں 2540 ارب روپے ، 2023-24ء میں 2434 ارب اور 2024-25ء میں 2352 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دی گئی۔ دستاویزات کے مطابق انکم ٹیکس کی مد میں 580 ارب روپے ، سیلز ٹیکس میں 1274 ارب روپے اور کسٹم ڈیوٹی میں 499 ارب روپے کی چھوٹ دی گئی۔ قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ ملک میں یوریا کھاد کی فی بوری قیمت 4500 روپے پر برقرار ہے اور پیداوار ملکی ضروریات سے زیادہ ہے ۔ وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ ڈی اے پی کی قیمت مشرق وسطیٰ میں جنگ کے باعث بڑھ کر 17 ہزار روپے فی بوری ہوگئی جبکہ عالمی منڈی میں قیمت 19500 روپے تک پہنچ چکی ہے ۔ سندھ حکومت نے گزشتہ سال کھاد پر تقریباً 50 ارب روپے کی سبسڈی دی۔ چینی کی درآمد سے متعلق جواب میں بتایا گیا کہ مجموعی لاگت میں ضمنی اخراجات اور مارک اَپ بھی شامل ہیں۔ درآمد شدہ چینی میں سے ایک لاکھ 98 ہزار 668 میٹرک ٹن سے زائد اوسطاً 168 روپے 24 پیسے فی کلوگرام کے حساب سے فروخت کی جا چکی تھی جبکہ ایک لاکھ 8 ہزار میٹرک ٹن سے زائد چینی گوداموں میں موجود تھی۔وزارت خزانہ کے مطابق 31 اگست 2026ء تک ورکرز ویلفیئر فنڈ میں 315 ارب 30 کروڑ روپے سے زائد موجود تھے ۔ یہ رقم اسٹیٹ بینک میں سرکاری اکاؤنٹ کے تحت رکھی گئی اور پبلک اکاؤنٹ میں ہونے کے باعث اس پر سود ادا نہیں کیا جاتا۔تنخواہ دار طبقے کے انکم ٹیکس سے متعلق جواب میں بتایا گیا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء کے تحت سالانہ 12 لاکھ روپے تک آمدن پر ٹیکس کی شرح صفر ہے ۔

12 لاکھ سے 22 لاکھ روپے تک آمدن پر 6 ہزار روپے اور 12 لاکھ سے زائد رقم کا 11 فیصد ٹیکس مقرر ہے ۔ 22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے تک آمدن پر ایک لاکھ 16 ہزار روپے اور 22 لاکھ سے زائد رقم کا 20 فیصد جبکہ 32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے تک آمدن پر 3 لاکھ 16 ہزار روپے اور 32 لاکھ سے زائد رقم کا 25 فیصد ٹیکس عائد ہوتا ہے ۔اسی طرح 41 لاکھ سے 56 لاکھ روپے تک آمدن پر 5 لاکھ 41 ہزار روپے اور 41 لاکھ سے زائد رقم کا 29 فیصد، 56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے تک آمدن پر 9 لاکھ 76 ہزار روپے اور 56 لاکھ سے زائد رقم کا 32 فیصد، جبکہ 70 لاکھ روپے سے زائد آمدن پر 14 لاکھ 24 ہزار روپے اور 70 لاکھ سے زائد رقم کا 35 فیصد ٹیکس مقرر ہے ۔ وزارت خزانہ کے مطابق سرکاری اور نجی شعبے کے تنخواہ دار ملازمین کے لیے ٹیکس قوانین یکساں ہیں جبکہ فنانس ایکٹ 2026ء کے ذریعے تنخواہ دار افراد کے ٹیکس سلیبز میں کمی کی گئی۔وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل نے بتایا کہ کراچی سکھر موٹر وے منصوبہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور 181 ارب روپے مالیت کے 19 منصوبے زیرِ عمل ہیں۔وفاقی وزیر احسن اقبال نے سی پیک منصوبوں کی پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ گلگت شندور روڈ کی بہتری اور توسیع کا منصوبہ تقریباً 65 فیصد مکمل ہو چکا ہے جبکہ مالی سال 2026-27ء کے بجٹ میں اس کے لیے ایک ارب روپے مختص کیے گئے ۔وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے بتایا کہ اسلام آباد ماڈل کالجز برائے طالبات میں تدریسی ضروریات پوری کرنے کے لیے 12 مرد اساتذہ کو عارضی بنیادوں پر تعینات کیا گیا ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی مرد استاد کو خواتین کے تعلیمی اداروں میں مستقل بنیادوں پر تعینات نہیں کیا گیا۔وزارت تجارت کے مطابق جغرافیائی اشاریوں کے تحفظ سے متعلق قانون کے تحت پاکستان کی 24 مصنوعات رجسٹر کی جا چکی ہیں جن میں 15 زرعی مصنوعات، 8 دستکاری کی اشیا اور ایک صنعتی مصنوعات شامل ہے ۔ اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے ایوان کو بتایا گیا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے 47 شعبہ جات کے نصاب پر نظرثانی کی ہے اور انڈرگریجویٹ سطح پر انٹرن شپ کو لازمی قرار دیا گیا ہے ۔

 

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...