پٹرولیم لیوی ختم نہ ہوئی تواسلام آباد مارچ ہوگا، حافظ نعیم
وزیراعظم سے آئندہ 2،3روز میں فائنل ملاقات ہوگی ، پریس کانفرنس
لاہور (سیاسی نمائندہ، آن لائن، آئی این پی) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سے متعین ایجنڈے پر ملاقات ہوگی، پٹرولیم لیوی ختم نہ کی گئی تو نومبر کے وسط میں پوری طاقت سے اسلام آباد مارچ شروع کیا جائے گا۔ عوام شدید غصے میں ہیں، اس سے پہلے کہ لاوا پھٹ جائے ، انہیں ریلیف دیا جائے۔ منصورہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ آئینی ترامیم سے عدالتی نظام مزید کمزور ہوا ہے ، ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں اضافہ عدالتی نظام کی تباہی کا ثبوت ہے ۔ پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے ، اسے ختم کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم سے آئندہ 2،3 روز میں ملاقات متوقع ہے ، تاہم ملاقات ہو یا نہ ہو، اصل مقصد عوام کو ریلیف دلانا ہے ۔
حکمران ہوش کے ناخن لیں، کیا عوام پارلیمنٹ کا گھیراؤ کریں گے تو انہیں ریلیف ملے گا؟ وزیراعظم نے پٹرولیم لیوی ختم نہ کی تو دوبارہ کوئی ملاقات نہیں ہوگی، یکم نومبر کے بعد اسلام آباد مارچ کی بھرپور تیاری شروع ہوگی اور پھر فیصلے سڑکوں پر ہوں گے ۔حافظ نعیم نے کہا کہ ماورائے عدالت قتل کے واقعات سے یہ تاثر تقویت پکڑ رہا ہے کہ ریاست کی رِٹ ختم ہوچکی، طاقتور مجرموں کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ عدالتوں میں 23 لاکھ مقدمات زیرالتوا ہیں، جبکہ ان کے بقول 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم سے حکومت نے عدالتوں پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے ۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ بدترین حالات کے باوجود ریفائنریوں کے منافع میں ایک سال کے دوران ایک ہزار سے 1100 فیصد تک اضافہ ہوا، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں بھی اربوں کما رہی ہیں جبکہ آئی پی پیز کو بھی اربوں روپے ادا کئے جارہے ہیں۔ چند ہزار افراد اور مختلف مافیاز کو نوازنے کے بجائے عوام کو فائدہ دیا جائے ۔
وزیراعظم کا پٹرول پر جاری ریلیف ناکافی ہے ، آٹا 7 ہزار روپے من سے تجاوز کرگیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پختونخوا میں ایمرجنسی لگا کر 160 ارب روپے کا مارجن کہاں سے نکالا گیا، آئی ایم ایف معاہدے میں پٹرولیم لیوی ختم نہ کرنے کی شرط نہیں۔ چند ہزار افراد کے فائدے کیلئے 25 کروڑ عوام کو نقصان پہنچایا جارہا ہے ۔فلسطین کی صورتحال پر حافظ نعیم نے کہا کہ اسرائیل نے غزہ کے ساتھ مغربی کنارے میں بھی بدترین مظالم شروع کردیئے ہیں۔ نیتن یاہو اور ٹرمپ سیاسی فائدے کیلئے حالات کو استعمال کررہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ نام نہاد غزہ بورڈ کیا کررہا ہے اور اسلامی ممالک کے حکمران فلسطین کیلئے کیا اقدامات کررہے ہیں؟ سعودی عرب پر حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک میں کشیدگی بڑھانے کے بجائے مذاکرات سے حالات معمول پر لائے جائیں، مکہ دفاعی معاہدے میں ایران کو بھی شامل کیا جائے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments