امریکی ایٹمی تنصیب میں آتشزدگی، 6 فوجی اڈوں پر سائبر حملہ، خفیہ معلومات کے افشا پر اہم جنرل برطرف

امریکی ایٹمی تنصیب میں آتشزدگی، 6 فوجی اڈوں پر سائبر حملہ، خفیہ معلومات کے افشا پر اہم جنرل برطرف

مذاکرات بحالی کی کوششیں ، امریکی نائب صدر کا ایران کو خط،امریکی فوجی حملے روکنے کیلئے کسی بھی قسم کے مذاکرات جوہری معاملے پر گفتگو کے بغیر ناممکن ہونگے :امریکا آبنائے ہرمز میں 4 آئل ٹینکرز بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے ،آگ بھڑک اٹھی،جہازوں نے تنبیہات نظرانداز کیں:ایران،پاسداران انقلاب کا ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

واشنگٹن،تہران(نیوز ایجنسیاں )امریکی ریاست جنوبی کیرولینا میں ایٹمی مواد سے متعلق تنصیب میں آگ لگنے کے بعد ہنگامی حالت نافذ کردی گئی، جس کے نتیجے میں ایک ملازم معمولی زخمی ہوگیا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق آگ بدھ کو سوانا ریور سائٹ پر واقع نیشنل لیبارٹری میں لگی، جہاں سرد جنگ کے دوران ایٹمی ہتھیاروں کے لیے پلوٹونیم اور ٹریٹیم تیار کیے جاتے تھے ۔ امریکی محکمہ توانائی کے ترجمان نے بتایا کہ آگ بجھا دی گئی ہے اور تابکار آلودگی کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔آگ کے بعد حکام نے تنصیب میں ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے علاقے میں فضائی، ریلوے ، دریائی اور زمینی آمدورفت عارضی طور پر محدود کردی، جبکہ ملازمین کو احتیاطاً محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت کی گئی۔ حکام نے اسی رات ہنگامی حالت ختم کردی اور آمدورفت بحال ہوگئی۔ آگ لگنے کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہوسکی۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے فوجی اڈوں پر غذائی اشیا کے فریزرز میں پراسرار خرابیوں کو ممکنہ سائبر حملہ قرار دے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

اگست میں امریکا کے کم از کم چھ فوجی اڈوں پر فریزرز کا درجہ حرارت اچانک بڑھنے سے خوراک خراب ہوگئی۔ بعض آلات ڈی فراسٹ موڈ میں چلے گئے ، جس سے منجمد اشیا پگھل گئیں۔رپورٹ کے مطابق امریکی فوجی تفتیش کار فرانس میں سپر مارکیٹوں کے کولنگ سسٹم پر ہونے والے ایسے ہی سائبر حملے کی تحقیقات کرنے والے حکام سے بھی رابطے میں ہیں۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس معاملے سے واقف چار امریکی حکام نے بتایا کہ فوجی تفتیش کار اس امکان کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کسی نے دور بیٹھ کر فریزرز کے درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے والے نظام میں مداخلت کی۔ تاہم تحقیقات ابھی اس مرحلے پر نہیں پہنچیں کہ یہ طے کیا جاسکے کہ خرابیوں کی اصل وجہ کیا تھی یا اس کے پیچھے کون ملوث تھا ۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے خفیہ معلومات ذرائع ابلاغ کو افشا کرنے کے الزام میں فوج کے سینئر افسر لیفٹیننٹ جنرل بریٹ سلویا کو عہدے سے برطرف کردیا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پینٹاگون کے ایک عہدیدار نے الزام عائد کیا ہے کہ جنرل سلویا نے ایران جنگ اور روس یوکرین تنازع سمیت اہم معاملات پر خفیہ معلومات صحافیوں تک پہنچائیں۔ عہدیدار کے مطابق جنرل سلویا خفیہ معلومات افشا کرنے سے متعلق پوچھے گئے سوالات پر تین بار پولی گراف ٹیسٹ میں ناکام ہوئے ۔جنرل سلویا جوائنٹ سٹاف میں حکمت عملی، منصوبہ بندی اور پالیسی کے شعبے کے سربراہ تھے اور اعلیٰ فوجی قیادت کو مشورے دینے کے ساتھ فوجی منصوبوں کی تیاری میں اہم کردار ادا کرتے تھے ۔ وہ اس سے قبل امریکی فوج کے 101ویں ایئربورن ڈویژن کی کمان بھی سنبھال چکے ہیں۔پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے کہا کہ فضائیہ کے دفتر برائے خصوصی تحقیقات کی وسیع تحقیقات کے بعد حساس معلومات کے تحفظ کے لیے ضروری انتظامی کارروائی کی گئی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ یہ معاملہ ممکنہ قانونی کارروائی کے لیے محکمہ انصاف کو بھیج دیا گیا ہے ۔ تاہم ترجمان نے جنرل سلویا کا نام لے کر ان کے خلاف الزامات کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔

یہ برطرفی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف دوبارہ بڑے پیمانے پر فضائی حملوں کے امکان پر غور کر رہے ہیں اور امریکی فوج میں خفیہ معلومات کے افشا ہونے کے واقعات کی تحقیقات تیز کردی گئی ہیں۔ وزیر دفاع ہیگسیتھ نے پینٹاگون میں معلومات افشا کرنے والوں کی نشاندہی کے لیے خصوصی اقدامات کیے ہیں، جن میں اعلیٰ حکام کے پولی گراف ٹیسٹ بھی شامل ہیں۔جنرل سلویا فوری طور پر تبصرے کے لیے دستیاب نہیں تھے ۔ ان کے خلاف الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی اور محکمہ انصاف میں ممکنہ قانونی کارروائی کے نتائج سامنے آنا باقی ہیں ۔امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی کو خط لکھا ہے ۔خبر کے مطابق نائب صدر نے خط میں زور دیا ہے کہ امریکا کے ممکنہ فوجی حملوں کو روکنے کے لیے کسی بھی قسم کے مذاکرات جوہری معاملے پر بات چیت کے بغیر ممکن نہیں ہوں گے ۔

ایگزیوس کے مطابق یہ خط تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے امکان کا جائزہ لینے کے لیے بھیجا گیا تھا، اور اس خط کی تجویز خود جے ڈی وینس نے دی تھی۔ایگزیوس نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے لکھا ہے کہ ٹرمپ نے بھی اس تجویز کا خیرمقدم کیا تھا۔اس سے قبل وال سٹریٹ جرنل نے اس خط کی ترسیل کی خبر دی تھی۔ نیو یارک ٹائمز نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ وینس کا خط گزشتہ ہفتے قطری ثالثوں کے ذریعے محسن رضائی تک پہنچایا گیا تھا۔ اخبار کے مطابق وینس نے براہ راست مذاکرات کی تجویز پیش کی اور ان مذاکرات کی ذاتی طور پر قیادت کرنے کے لیے اپنی آمادگی کا اظہار کیا۔تاہم ٹرمپ نے بدھ کو صحافیوں کے سوالات کے جواب میں کہا کہ اس خط کا تعلق ایران کو ادویات اور طبی سامان کی فراہمی میں مدد سے تھا۔ایران کی مسلح افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کے دوران سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر کم از کم 4 آئل ٹینکرز میں آگ لگ گئی۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق تین ٹینکرز نے ریڈار اور نیوی گیشن نظام بند کرکے انتباہات نظرانداز کیے ، جبکہ ایک اور ٹینکر مشرقی حصے میں متاثر ہوا۔ ایران نے امریکی دعوے کو چیلنج کرتے ہوئے بارودی سرنگیں صاف کرنے کے آزادانہ شواہد پیش کرنے کا مطالبہ کیاہے ۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے میں سیرک کے قریب ایم کیو ون ڈرون مار گرایا ہے ۔ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ اس نوعیت کا 14واں ڈرون ہے جسے مار گرایا گیا ہے ۔امریکی سینٹکام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے ممکنہ آپشنز پر بریفنگ دی۔امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام اور اجلاس سے براہ راست آگاہ افراد کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ وائٹ ہاؤس میں امریکی سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر کی غیر معمولی بالمشافہ ملاقات تھی اور یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب امریکا بڑی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہا ہے ۔اجلاس میں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین بھی شریک تھے ۔بعض ذرائع کے مطابق اجلاس میں کابینہ کے ارکان نے بھی شرکت کی، اس دوران دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...