فضل الرحمن پر حکومتی وار، سیاسی مفاہمت کو دھچکا لگنے کا خدشہ
حکومت کیلئے قانون سازی اور سیاسی مفاہمت کے معاملات مزید مشکل ہو سکتے
((تجزیہ:سلمان غنی)
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے معاملے ، دہشت گردی کے خلاف ریاستی پالیسی اور حکومتی ساکھ پر سوالات اٹھانے کے بعد حکومت اور جے یو آئی کے درمیان اختلافات شدت اختیار کرتے نظر آ رہے ہیں۔ حکومت نے ابتدا میں مولانا فضل الرحمن کی تنقید پر دفاعی انداز اختیار کیے رکھا، تاہم اب حکومتی وزرا کی جانب سے ان پر کھلی تنقید کی جا رہی ہے ، جس سے سیاسی درجہ حرارت بڑھنے اورسیاسی مفاہمت کو دھچکا لگنے کا خدشہ ہے ۔قومی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمن نے تہران میں چار ملکی کانفرنس کے تناظر میں وزیر دفاع خواجہ آصف کو مخاطب کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ وہاں دفاعی معاہدے ہو رہے تھے اور وزیر دفاع اسمبلی میں کیوں بیٹھے ہیں؟۔
خواجہ آصف نے خاموشی اختیار کی، لیکن اگلے روز قومی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمن کے سیاسی کردار پر ان کی تنقید نے دونوں رہنماؤں کے درمیان اختلافات کو نمایاں کر دیا۔ سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ خواجہ آصف نے فوری ردعمل دینے کے بجائے اگلے روز جواب کیوں دیا اور کیا ان پر مولانا کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے کے لیے سیاسی دباؤ تھا؟،مولانا فضل الرحمن ماضی میں مختلف حکومتوں کے ساتھ سیاسی معاملات میں شریک رہے ہیں۔ ناقدین ان کی کشمیر کمیٹی کی سربراہی اور اقتدار میں شمولیت کو سیاسی مفادات سے جوڑتے ہیں۔ پی ڈی ایم حکومت کے دوران تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے میں جے یو آئی کے کردار کے باوجود عام انتخابات میں خاطرخواہ کامیابی نہ ملنے اور مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اقتدار میں شریک نہ کیے جانے کو بھی دونوں جماعتوں کے درمیان فاصلے بڑھنے کی وجوہات قرار دیا جا رہا ہے ۔
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا معاملہ اختلافات میں شدت کا اہم سبب بنا۔ مولانا فضل الرحمن کا موقف ہے کہ انہوں نے اس اقدام کو روکنے کے لیے مصالحتی کردار ادا کیا، لیکن حکومت اپنے موقف سے پیچھے ہٹ گئی۔ دوسری جانب حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ مولانا کی تنقید کی ایک وجہ صوبے کے اقتدار میں جے یو آئی کو شریک نہ کرنا بھی ہے ۔ یوں اختلافات کا دائرہ دہشت گردی کے خلاف ریاستی پالیسی، شہدا کی تکریم اور حکومتی کارکردگی پر سوالات تک پھیل گیا ہے ۔ادھر سینیٹ میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی مولانا فضل الرحمن کے سیاسی کردار پر تنقید کی۔ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کی جانب سے مولانا کے خلاف تنقید میں شدت آ رہی ہے ۔سیاسی مبصرین کے مطابق حکومت اور جے یو آئی کے درمیان بڑھتی کشیدگی سیاسی عدم استحکام میں اضافے اور قومی اسمبلی میں قانون سازی کے عمل کو متاثر کر سکتی ہے ۔ مولانا فضل الرحمن نے ایوان میں نئے میثاق جمہوریت کی تجویز بھی پیش کی تھی، لیکن حالیہ تلخ بیانات کے بعد اس پر پیشرفت مشکل دکھائی دیتی ہے ۔ دوسری جانب جے یو آئی اور تحریک انصاف کے درمیان قربت بڑھنے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے ۔ اگر جے یو آئی کھل کر اپوزیشن کے ساتھ کھڑی ہو گئی تو حکومت کیلئے قانون سازی اور سیاسی مفاہمت کے معاملات مزید مشکل ہو سکتے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments