ایک کھرب99ارب کے پیوٹ معاشی منصوبے کا افتتاح:بزنس لائیں،نہیں پوچھوں گی پیسہ کہا ں سے آیا:مریم نواز
پنجاب کو ڈیجیٹل دور میں شامل کرانے کیلئے اختراعی اصلاحات متعارف کرائی ہیں ،10 لاکھ لوگوں کا معیار زندگی بلند ہوگا ہر پیسہ والے کوچور سمجھنا غلط ، ایک روپے کی بھی کرپشن ثابت ہوئی تو استعفیٰ دے دونگی:وزیراعلیٰ، تقریب سے خطاب
لاہور(دنیا نیوز،مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ’’پنجاب انوویشن، ویلیو ایڈیشن اینڈ اکنامک ٹرانسفارمیشن ‘‘(PIVOT) پلان 29-2026کا باضابطہ آغاز کر دیا،1 کھرب 99 ارب 53 کروڑ روپے مالیت کی یہ جامع معاشی حکمت عملی پنجاب کو برآمدات پر مبنی صنعتی مرکز بنانے کیلئے وضع کی گئی ہے ، اس کے اہداف میں 6 ارب 80 کروڑ ڈالرکی اضافی برآمدات، 1لاکھ62ہزار نئی براہ راست ملازمتیں اور10 لاکھ سے زائد افراد کو روزگار کی فراہمی ہے ۔ مریم نواز نے افتتاحی تقریب سے خطاب میں کاروباری برادری کو پیشکش کی ہے کہ وہ صوبے میں بزنس لے کر آئیں، میں نہیں پوچھوں گی آپ پیسہ کہاں سے لا رہے ہیں، ہر پیسہ والے کوچور سمجھنا غلط ہے ، پاکستان سمیت دنیا بھر کے سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کیلئے میرا پیغام واضح ہے کہ پنجاب آپ کی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتا ہے ، ہم آپ کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں ، حکومت سہولت کار کا کردار ادا کرے گی ۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں نیا ٹیکس نہیں بلکہ ٹیکس نیٹ بڑھانے پر توجہ دی، پنجاب کا ریونیو 200 ارب سے ایک کھرب تک پہنچ رہا ، پیوٹ شروع کرنے سے پہلے ہر محکمہ سے سرخ فیتہ ختم کرنے کا عہد لیا ،پنجاب کو ڈیجیٹل دور میں شامل کرانے کیلئے اختراعی اصلاحات متعارف کرائی ہیں ۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب معاشی ترقی کے ایک ایسے نئے ماڈل کی جانب بڑھ رہا ہے جس کی بنیاد صنعت، جدت، ویلیو ایڈیشن اور برآمدات پر ہو، پیوٹ منصوبے کا ایک اہم ستون سٹریٹجک ٹریڈ انہانسمنٹ پروگرام (STEP)ہے ، جس کیلئے ایک نیا ڈیجیٹل پورٹل بھی متعارف کرایا ہے ،یہ مالیاتی اقدام ایک وسیع سرمایہ کاری فریم ورک کا حصہ ہے ۔
مریم نوازنے مزید کہا کہ نئے تین سالہ اکنامک ٹرانسفارمیشن پلان (پیوٹ )سے 10 لاکھ لوگوں کی زندگی میں یقینی بہتری، معیار زندگی بلند ہوگا، ، پیوٹ پر عملدرآمد سے 906 ارب روپے کی نجی سرمایہ کاری آئیگی ، پیوٹ کے ذریعے پنجاب میں جامع اقتصادی تبدیلی کا آغاز ہوچکا ، پیوٹ میں حکومتی سرمایہ کاری تقریبا 1089 ارب روپے اور پرائیویٹ سیکٹر سے 906 ارب روپے آئیں گے ،پیوٹ پلان کے تحت پنجاب کے صنعتی شعبے کو مضبوط بنانے کیلئے 753 ارب 70 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں ۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ پیوٹ پلان کے تحت رعایتی مالیات، صنعتی علاقے ، کلسٹر انفراسٹرکچر اور کاروباری سہولیات کو شامل کیا گیا ہے ، صنعتی منصوبوں کیلئے زیرو سے پانچ فیصد کی شرح پر 300 ارب روپے کے رعایتی قرضے دئیے جائیں گے ، ویلیو ایڈیشن کیلئے پیوٹ پلان کے تحت سرگودھا، خانیوال، اوکاڑہ اور بھکر میں چار ایگرو پراسیسنگ پارکس بنائے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار معاشی ترقی کیلئے نجی سرمایہ کاری، مضبوط صنعتی بنیاد اور سرکاری و نجی شعبوں کے درمیان مؤثر شراکت داری ناگزیر ہے ، پیوٹ منصوبے میں انتظامی اور ضابطہ جاتی اصلاحات متعارف کرائی ہیں جن کا مقصد کاروباری امور کو آسان بنانا اور طویل المدتی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے ۔ای بز (E-Biz) ڈیجیٹل اقدام کے تحت صوبائی حکومت 300 سرکاری و انتظامی خدمات کو ڈیجیٹل نظام پر منتقل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ،اس پروگرام میں 2 ہزار کاروباری اداروں کو ای کامرس پلیٹ فارمز سے منسلک کرنے کا ہدف بھی شامل ہے ۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ پیوٹ محض اہداف اور وعدوں پر مشتمل ایک دستاویز بن کر نہیں رہے گا، اس کے ہر اقدام پر عملدرآمد کی نگرانی کی جائے گی ، ہم سرمایہ کاری اور شراکت داری کیلئے پنجاب کے دروازے کھول رہے ہیں، مجھے یقین ہے ہم سب مل کر پنجاب کی معاشی صلاحیت کو حقیقی خوشحالی میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ مریم نواز نے مزید کہا کہ پیوٹ سے تاریخی، مذہبی سیاحتی مقامات، تفریحی سہولیات اور سیاحتی سرکٹس کے شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائیگا، لاہور نائٹ اکانومی، پوٹھوہار علاقے ، چولستان اور دیگر سیاحتی مقامات کو شامل کیاجائیگا ،پبلک-پرائیویٹ شراکت داری، صنعتی زمین پالیسی، لیبر قوانین کوبزنس فرینڈلی بنایا جائے گا ،پاکستان کو پائیدار معاشی ترقی کیلئے صرف دوسری قوموں کی تیار کردہ اشیا کا صارف بننے کے بجائے خود تخلیق کار، صنعت کار اور عالمی معیشت میں مقابلہ کرنے والا ملک بننا ہوگا، دنیا، کاروبار، صنعتیں اور صارفین تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں، سوال یہ ہے کہ ہم اس تبدیلی کی قیادت کریں گے یا تبدیلی ہمیں اپنے ساتھ لے جائے گی۔ مریم نواز نے مزید کہا کہ پنجاب میں پولیس، فوڈ ڈیپارٹمنٹ اور دیگر اداروں میں رشوت لینے والوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے ،ماحولیاتی قوانین پر عملدرآمد ضرور کرایا جائے لیکن فیکٹریاں بند کرنا مسئلے کا حل نہیں ،ماحولیاتی تحفظ کی آڑ میں کارخانے بند کرانا غلط ہے ۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ پنجاب میں 1200 سے زائد سٹارٹ اپ چل رہے ہیں، 50 مشترکہ سہولتوں کو یکجا کر دیا گیا ،سرمایہ کاری کو لانے کیلئے سب سے پہلے ماحول کو محفوظ بنانا ہے ، پنجاب کی 36 ملین کی ورک فورس ہے ، پنجاب کو چار لاکھ سکلڈ ورکرز دئیے ہیں، چھ لاکھ مزید بھی دیں گے ، پنجاب میں فارماسیوٹیکل انڈسٹری تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے ۔مریم نواز نے کہا کہ ای بزنس کے ذریعے دو لاکھ سے زیادہ لوگ این او سی اور دیگر اجازت نامے حاصل کر چکے ،بے یقینی،بے امنی اور روز بروز جہاں احتجاج ہو وہاں کاروبار کیسے ہوگا۔وزرائسے کہتی ہوں کہ پروٹوکول اور سکیورٹی کم سے کم رکھیں، ڈالہ کلچراور قبضہ مافیا کا پنجاب سے خاتمہ کر دیا ، راستے ریڑھیوں کیلئے نہیں گزرنے کیلئے ہوتے ہیں، ریڑھیوں کیلئے الگ جگہیں بنائی گئی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ فیفا اور بڑے ادارے سرٹیفکیشن نہ ہونے کی وجہ سے سپورٹس گڈز نہیں لے رہے ،کٹلری پنجاب میں بنتی ہے ، گلیزنگ، میٹریل ٹیسٹنگ لیب کیلئے چائنہ بھیجنا پڑتا ہے ، پنکھے یہاں بنتے ہیں،فین کی آواز ٹیسٹنگ کیلئے چائنہ جاتا ہے ۔ سپیشل اکنامک زون اور انڈسٹریل اسٹیٹ رئیل اسٹیٹ کا بزنس بن کر رہ گیا، انڈسٹریل اسٹیٹ اور اکنامک زون میں 80 ہزار سے 2 لاکھ ماہانہ لیز پرانڈسٹری کیلئے زمین دیں گے ۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ عوام میری فیملی ہیں، آپ کی خوراک کی ذمہ داری بھی میری ہے ، کھانے کے کاروبار کرنے والے ناقص کھانا نہ دیں،کسی کا بزنس بند کرنے کا شوق نہیں، لوگوں کو صاف ستھرا ماحول اور صحت بخش غذاکی فراہمی ہدف ہے ۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ پنجاب میں کرپشن کے خلاف بھرپور مہم جاری ہے ،اگر ان کے خلاف ایک روپے کی بھی کرپشن ثابت ہوگئی تو وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گی، کرپشن کے خاتمے کے بجائے اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ میں ہی سب سے زیادہ کرپشن سامنے آئی ، پنجاب میں 25، 25 سال پرانے قبضے ختم کرائے ، پٹواری اور تحصیل دار کرپشن میں ملوث ہیں ۔ علاوہ ازیں وزیراعلیٰ مریم نواز کی دعوت پر عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں کے نمائندوں ،عالمی سفارتکاروں، ممتاز صنعتکاروں میاں منشا، عارف حبیب، فواد مختار، زید بشیر اور عثمان خالد وحید ودیگر نے بھی افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔ گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد کے علاوہ دیگر اعلیٰ عہدیداران بھی موجود تھے ۔اس موقع پر ممتاز صنعتکار عارف حبیب نے لاہور سی بی ڈی ون میں پاکستان کی بلند ترین بلڈنگ بنانے کا اعلان کیا اور کہا کہ پیوٹ جیسے پروگرام کی پاکستان کو ضرورت ہے ،صنعت کارفواد مختار ،زید بشیر نے کہا کہ پنجاب میں سرمایہ کاری کیلئے خیر مقدمی اقدامات خوش آئند ہیں ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments