حسین جری
اسپیشل فیچر
سریلی آوازقدرت کی جانب سے ایک تحفہ ہے، قدرت کی عطا کی ہوئی اس آواز کو اگر اﷲ تعالیٰ کے محبوب لوگوں کی مدحت کے لیے استعمال کریں تو یہ باعث ثواب ہے ایک ایسے ہی نوجوان نوحہ خواں حسین جری بھی ہیں جو گزشتہ 27 برسوں سے مرثیہ خوانی، سوز وسلام اور نوحہ خوانی کررہے ہیں۔ حسین جری 1982ء میں کراچی میں پیدا ہوئے 2002ء میں ان کا نوحوں کا پہلا البم ریلیز ہوا، اور گزشتہ دس برس سے محرم میں ہر سال ان کا البم آتا ہے۔ جو سننے والوں میں مقبولیت حاصل کرتا ہے۔ حسین جری نے مرثیہ اور نوحے پڑھنے کے بارے میں بتایا کہ جب وہ پانچ سال کے تھے تو محلے کے بچون نے ایک انجمن اطفال مومنین کے نام سے بنائی جس میں محلے کے بچے مجالس میں جا کر نوحے پڑھا کرتے تھے۔ اس وقت ندیم سرور، حسن صادق وغیرہ کے پڑھے ہوئے نوحے سن کر دہرایا کرتے تھے۔ گھر کا ماحول مذہبی تھا میرے والد سید تصویب نقوی اور والدہ نے میری حوصلہ افزائی کی جب کہ مجالس میں میری تائی اور پھوپھی بھی مرثیہ خوانی اور نوحہ خوانی کرتی تھیں‘ جس کی وجہ سے مجھے ساز گار ماحول میسر آیا پہلی دس سال پہلے 2002ء میں پہلا البم تیار کیا جس میں ریحان اعظمی، ہلال نقوی جیسے شعراء کے نوحے شامل کئے۔ اسے خاصی پذیرائی ملی۔ ہمت بڑھی اور پھر ہر سال ایک البم مارکیٹ میں آتا ہے اب تک دس البم آچکے ہیں۔ہمارے ایک سوال پر آج کل کے نوجوانوں میں کہاں تک سیکھنے کا جذبہ موجود ہے؟انہوںنے کہا کہ آج کل کے پڑھنے والے سیکھنے سے زیادہ پرانے نوحوں کو دوبارہ پڑھ رہے ہیں۔ پرانے پڑھنے والے محنت زیادہ کرتے تھے اور ان کی زبان و بیان، تلفظ اور ادائیگی پر بھرپور توجہ ہوتی تھی اور وہ صرف اپنے کام پر توجہ دیتے تھے۔ بلکہ ان کی شخصیات بھی عہد آفرین اور تاریخ ساز ہوتی تھیں۔ آج کے نئے پڑھنے والے شاید محنت تو اتنی نہیں کرتے لیکن ان کا خلوص اور اہل بیت کی مودت انہیں کامیابی سے سرفراز کردیتی ہے۔ یہ آج کے صاحب فن کی خوش نصیبی ہے کہ اسے اپنے فن اور اپنی ذات کے اظہار کے لیے اتنے ذرائع میسر ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ حقیقتاً بڑی شخصیات اب ناپید ہیں۔ اس کی وجہ صرف ہی ہے کہ نئے پڑھنے والے انفرادیت نہیں لارہے۔نئے پڑھنے والوںمیںعرفان، فرحان علی وارث، شادمان رضا، رضا عباس اور فراز اچھی آوازیں ہیںاور یہ محنت اور لگن سے کام بھی کررہے ہیں لیکن جو بات ندیم سرور، حسن صادق اور میر حسن میر میں ہے وہ ان میں نظر نہیں آرہی۔ حسین جری نے کہا کہ اگر ہم اپنا صرف ایک مرکز حضرت امام حسینؑ بنالیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ان پریشانیوں کا شکار ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ یوں تو بیش تر نوحہ نگار نوحے لکھنے کا معاوضہ نہیں لیتے کہ یہ ثواب کا معاملہ ہے ‘ لیکن اگر کوئی شخص اپنی معاشی مجبوری کے باعث ایسا کرتا بھی ہے تو اس پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔ ان کا کہناتھا کہ عزاداری میںسوز وسلام ، مرثیوں ، منقبت اور نوحوںکو یکساں اہمیت حاصل ہے تاہم انہوں نے خود کونوحوںتک محدود رکھا ہے اور اس کی وجہ وقت کی کمی ہے ۔ منقبت کے لیے مجھے پورا وقت دینا ہوگا ۔ میرے نزدیک عزاداری میںعقیدت اوروابستگی لازمی ہے اعدادو شمار کی بات کی جائے تو میری دس البمزمیں 100نوحے کی کیسٹ اور سی ڈیز کی صورت میں ریلیز ہوچکی ہیں جبکہ تقریبا تین سو نوحے اس کے علاوہ ہیں جو وہ مجالس میں پڑھتے ہیں ۔ حسین جری نے کہا کہ اس محرم میں روز ہی ان کے پانچ پروگرام ہورہے ہیں ۔دہشت گردی کی موجودہ صورت حال کی وجہ سے تعلیم کا فقدان ہے ، جس کی وجہ سے جہالت کوفروغ ملتا ہے ۔ اسی سبب دہشت گردی کے واقعات میںاضافہ ہورہا ہے۔ تعلیم یافتہ انسان ان سے بچا رہتا ہے۔ ان کے خیال میں جس وقت بچے کی پرورش اور تربیت کے مراحل طے ہورہے ہوتے ہیں اگر اس وقت والدین کی بھر پور توجہ اور محبت مل جائے تو وہ بچہ زندگی کی تمام کٹھن منزلوںکو با آسانی طے کرلیتا ہے۔اور یہی بات حسین جری کے انداز میں خود اعتمادی پیدا کرتی ہے اور یہی ان کی اپنی شخصیت پر یقین کی عکاس ہے۔