فٹ بال ہیروز کی دنیا

برصغیر فٹبال کا بے تاج بادشاہ تاج لالہ سینئر
تاج لالہ سینئر آج ہم میں موجود نہیں لیکن ان کی خودداری اور غیرت مندی کی مثالیں آج بھی لوگوں کے ذہن میں محفوظ ہیں۔ کوئٹہ کے ایک میچ میں تاج لالہ سینئر کو سائیکل پنکچر ہونے کے باعث تاخیر ہوئی تو مہمان خصوصی اس وقت کے گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین نے انہیں لانے کیلئے سرکاری گاڑی بھیجی جب ان سے درخواست کی گئی کہ خواجہ ناظم الدین اسٹیڈیم میں آپ کا کھیل دیکھنے کے منتظر ہیں تو تاج لالہ سینئر نے جواب دیا کہ اگر خواجہ صاحب میرا کھیل دیکھنا چاہتے ہیں تو میرا انتظار کریں اور سرکاری گاڑی میں بیٹھنے سے انکار کردیا۔ خودداری اور غیرت مندی کی اس مثال کو انہوں نے بستر مرگ تک قائم رکھا۔ قبیلہ ترین سے تعلق رکھنے والے تاج لالہ سینئر بلوچستان کے ضلع پشین کے کلی بٹے زئی میں پیدا ہوئے۔ اسکول کے زمانے میں ننگے پاؤں فٹبال کھیلا کرتے تھے اور قیام پاکستان سے قبل ان کا کھیل عروج پر تھا۔ وہ خداداد صلاحیتوں کے مالک اور جسمانی طور پر فٹبال کھیل کے لئے نہایت موزوں تھے۔ انہوں نے کوئٹہ اور بلوچستان کی نمائندگی کے بعد محمڈن اسپورٹنگ کلکتہ میں شمولیت اختیار کی جو ہندوؤں کی ٹیم موہن بگان کو تگنی کا ناچ نچایا کرتی تھی۔ تاج محمد کی اوّلین ٹیم پرنس کلب کوئٹہ تھی جس میں وہ 6سال کھیلے۔ 1940 میں جب انہوں نے ہزارہ کلب کے ساتھ لکھنؤکا دورہ کیا اور سنڈیمن کلب کی روورز کپ بمبئی میں نمائندگی کی تو محمڈن اسپورٹنگ کلکتہ کی جانب سے بلاوا آگیا۔ 1943تا 1947اسی کلب، 1948میں بھوانی پور کلکتہ کے کھلاڑی بن گئے۔ تاج سینئر نے 1949میں بھارت کے ساتھ سری لنکا کا بھی دورہ کیا اور ایک سیزن ایسٹ بنگال کی نمائندگی کی۔ بعد ازاں کوئٹہ کے مسلم کلب، افغان کلب اور کراچی ککرز کی جانب سے بھی کھیلے۔ 1955 میں کراچی ککرز کے ہمراہ بھارت کا دورہ کیا اور ہزارہ کلب کے ساتھ تہران بھی گئے۔ لندن اولمپکس کے لئے جب بھارتی ٹیم کا چناؤ ہو رہا تھا تو ان فٹ ہونے کے باوجود انہیں سلیکٹ کرلیا گیا۔ وہ فل بیک اور لیفٹ ان کی پوزیشن پر نگینے کی طرح فٹ تھے وہ ایسے کھلاڑی تھے جب چاہتے اپنے ساتھی کھلاڑی کو بہترین پاس کے ذریعے گول کرنے کا موقع فراہم کر دیتے تھے۔ تاج سینئر کے بعد ان کے پائے کا لیفٹ ان دوبارہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ تاج لالہ سینئر برصغیر پاک وہند میں فٹبال کے بے تاج بادشاہ تھے ۔ تاج سینئر نے 1948میں 14ویں اولمپکس گیمز فٹبال ٹورنامنٹ میں بھارتی ٹیم کی نمائندگی کی اور اس اعزاز کے مالک کو یہ صلہ ملا کہ اس غریب و مفلس کھلاڑی کا انتخاب کبھی قومی ٹیم کیلئے نہ ہوسکا جسے پاکستان کا پہلا کپتان ہونے کا اعزاز ملنا چاہیے تھا اسے کبھی پاکستان سے کھیلنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ تاج سینئر کو کئی بار دلیپ کمار سمیت بھارت کی ممتاز شخصیات نے بھارت میں مستقل سکونت اختیار کرنے کی دعوت دی لیکن حب الوطنی کے جذبے سے سرشار تاج لالہ نے غربت و مفلسی کوگلے لگاتے ہوئے اپنی مٹی میں دفن ہونا توقبول کرلیا لیکن بھارت کو اپنا مستقل ٹھکانہ کبھی نہ بنایا۔ تاج لالہ کو عالیشان فٹبال کھیلنے کے عوض ایک سرکاری اسکول میں چپراسی کی ملازمت دی گئی جہاں1975میں وہ ریٹائرمنٹ کے بعد آخری ایام میں انتہائی کسمپرسی کی حالت میں اس جہان فانی سے کوچ کرگئے۔