سردیوں میں منہ سے بھاپ نکلتی ہے ، گرمیوں میں کیوں نہیں
لاہور(نیٹ نیوز)شدید سردی میں منہ سے دھواں نکلتا ہے ۔
ماہرین کے مطابق اس دلچسپ مظہر کے پیچھے سائنس کا سادہ مگر حیران کن اصول کارفرما ہے ، جسے کنڈینسیشن کہا جاتا ہے ۔سردیوں میں بیرونی فضا کا درجۂ حرارت کم ہوتا ہے ، جبکہ ہمارے پھیپھڑے سانس کے ذریعے اندر لے جانے والی ہوا کو نہ صرف گرم کرتے ہیں، بلکہ اس میں نمی بھی شامل کردیتے ہیں تاکہ ہوا سانس کی نالیوں کو نقصان نہ پہنچائے ۔جب یہ گرم اور نم سانس کے ساتھ باہر نکل کر ٹھنڈی اور خشک فضا سے ٹکراتی ہے تو درجۂ حرارت میں اچانک کمی کے باعث پانی کے ذرات فوراً چھوٹے چھوٹے قطروں میں بدل جاتے ہیں اور یہی قطرے ہمیں سفید بھاپ یا دھوئیں کی صورت دکھائی دیتی ہے ۔گرمیوں کے موسم میں چونکہ بیرونی درجۂ حرارت پہلے ہی زیادہ ہوتا ہے ، اس لیے سانس کے ساتھ خارج ہونے والی نم ہوا فوری طور پر کنڈینس نہیں ہوتی ۔