ڈیمنشیا کی وہ علامت جو 15 سال قبل سامنے آ جاتی ہے
ہیلسنکی(نیٹ نیوز)عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ بھولنے کی بیماری صرف بوڑھے لوگوں کو ہوتی ہے ، لیکن اگر یہ مرض 65 سال کی عمر سے پہلے لاحق ہو جائے تو اسے ‘ارلی آنسیٹ ڈیمنشیا’ کہا جاتا ہے۔
فن لینڈ کے ماہرینِ اعصاب کے مطابق اس موذی مرض کی علامات مریض کے برین ٹیسٹ یا ڈاکٹروں کی تشخیص سے 15 سال پہلے ہی اس کے کام کی جگہ پر ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔نیورولوجسٹ ڈاکٹر اینو سولیے کی سربراہی میں تحقیق میں معلوم ہوا کہ ڈیمنشیا کا شکار افراد اپنی ذہنی صلاحیت برقرار نہ رہنے کے باعث کام میں کم پروڈکٹو ہو گئے تھے ، جس کی وجہ سے وہ تشخیص سے 15 سال پہلے ہی اپنے ساتھیوں کے مقابلے میں سالانہ اوسطاً 13 ہزار 800 ڈالرز کم کما رہے تھے ۔اس میں یہ بھی بتایا گیا کہ یادداشت کمزور ہونے کی وجہ سے ایسے مریض دفتری ملاقاتیں بھول جاتے ہیں، پرانے کام کرنے کا طریقہ یاد نہیں رکھ پاتے۔