آسٹریلوی انجینئرز نے نظروں سے اوجھل ہونیوالا ڈرون بنالیا
سڈنی (نیٹ نیوز)نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی آسٹریلیا کے انجینئرز نے انسانی بصارت کی حد کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک ایسا ڈرون تیار کیا ہے جو پرواز کے دوران انسانی آنکھ کو تقریباً غائب دکھائی دیتا ہے۔
محققین کے مطابق ماضی میں غیر مرئی ڈرون بنانے کیلئے کیموفلاج، شفاف مواد اور روشنی کو موڑنے والی ٹیکنالوجیز پر کام کیا جاتا رہا تاہم اس نئی تحقیق میں موشن بلر کے تصور کو استعمال کیا گیا ہے ، وہی بصری اثر جس کی وجہ سے تیزی سے گھومنے والے پنکھے یا پروپیلر دھندلے نظر آتے ہیں۔فینٹم ٹوئسٹ نامی یہ ڈرون ایک سیکنڈ میں 25 مرتبہ تک گھوم سکتا ہے ، جو انسانی آنکھ کیلئے اتنی تیز رفتار ہے کہ ڈرون واضح طور پر نظر نہیں آتا۔ تحقیقی ٹیم کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو جنگلی حیات کی نگرانی، ماحولیاتی سروے اور بنیادی ڈھانچے کے معائنے جیسے کاموں میں استعمال کیا جا سکتا ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments