گوجرانوالہ ماس ٹرانزٹ منصوبے کی سست رفتاری، شہری ٹریفک مسائل سے پریشان
جی ٹی روڈ کے دونوں اطراف تعمیراتی کام کیلئے راستے بند،آہنی چادریں نصب ، گاڑیاں سروس روڈز استعمال کرنے پر مجبور منصوبے پر منصوبہ بندی کے تحت کام جاری ، ابتدائی مرحلے میں کچھ مشکلات ، مقررہ مدت میں مکمل ہوگا:ضلعی انتظامیہ
گوجرانوالہ (سٹی رپورٹر) اربوں روپے مالیت کا گوجرانوالہ ماس ٹرانزٹ میگا منصوبہ سست روی کا شکار ہے ، جبکہ ساڑھے 31 کلومیٹر طویل بی آر ٹی یلو لائن کی تعمیر شہریوں کے لیے مشکلات کا باعث بن گئی ہے ۔ شہر کے مختلف حصوں میں کھدائی اور تعمیراتی کام کے باعث ٹریفک کا نظام شدید متاثر ہو رہا ہے ۔جی ٹی روڈ کے دونوں اطراف تعمیراتی کام کے لیے راستے بند کرکے آہنی چادریں نصب کر دی گئی ہیں، جبکہ تمام چھوٹی اور بڑی گاڑیوں کو سروس روڈز استعمال کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے ، جس سے بیشتر مقامات پر شدید ٹریفک جام معمول بن گیا ہے ۔پنجاب حکومت نے پہلی بار گوجرانوالہ میں تقریباً 100 ارب روپے کی لاگت سے ماس ٹرانزٹ منصوبہ شروع کیا، جس میں میٹرو بسیں، اسٹیشنز اور دیگر جدید سہولتیں شامل ہیں۔ منصوبے کے تحت ساڑھے 31 کلومیٹر طویل بی آر ٹی یلو لائن پر تقریباً 62 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ اس منصوبے کی نگرانی پنجاب حکومت، نیسپاک، ایف ڈبلیو او اور محکمہ ہائی ویز کر رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق منصوبے میں 25 جدید سٹیشنز، دو زیرِ زمین سٹیشنز، ایک جدید ٹنل، آٹھ انڈر پاسز، دو جدید ڈپو اور ٹریک کے دونوں اطراف 10 فٹ چوڑی گرین بیلٹس بھی تعمیر کی جائیں گی۔شہریوں کا کہنا ہے کہ تعمیراتی کام کے دوران مناسب متبادل راستوں کا انتظام نہ ہونے سے انہیں روزانہ شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، جبکہ مقامی انتظامیہ اور ٹریفک پولیس ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے میں مؤثر کردار ادا نہیں کر سکیں۔ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ منصوبے پر باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کام جاری ہے ، ابتدائی مرحلے میں کچھ مشکلات کا سامنا ہے ، تاہم منصوبہ مقررہ مدت میں مکمل کر لیا جائے گا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments