2025، ساڑھے 7لاکھ افراد کو روزگار کیلئے بھیجا ، چودھری سالک
محفوظ، منظم، باقاعدہ اور باوقار مائیگریشن کے راستے تیار کرنے کی ضرورت ہے
اسلام آباد (دنیا رپورٹ )وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانیز اور انسانی وسائل کی ترقی چو دھری سالک حسین نے حقیقی لیبر مارکیٹ کی طلب کی بنیاد پر محفوظ، منظم، باقاعدہ اور باوقار مائیگریشن کے راستے تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔وہ اسلام آباد میں لیگل مائیگریشن کے راستوں سے متعلق بڈاپسٹ پراسیس تھیمیٹک ورکنگ گروپ کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 2025 میں 750,000 سے زائد کارکنوں کو بیرونِ ملک روزگار کے لیے بھیجا، جو ملک کے لیے محنت کشوں کی بین الاقوامی نقل و حرکت کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے ۔ پاکستان کی حکمتِ عملی میں مائیگریشن سے قبل کارکنوں کی مناسب تیاری، بیرونِ ملک ملازمت کے دوران ان کا تحفظ، بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں سے روابط برقرار رکھنا اور وطن واپس آنے والے تارکینِ وطن کی دوبارہ معاشی و سماجی شمولیت میں معاونت شامل ہے ۔ انہوں نے حکومتوں، آجروں اور تربیتی اداروں کے درمیان مزید مضبوط تعاون پر زور دیا تاکہ افرادی قوت کی کمی کو پورا کیا جا سکے اور بھرتی و ویزا کے عمل کو مزید قابلِ پیش گوئی بنایا جا سکے ۔اس موقع پر انٹرنیشنل سینٹر فار مائیگریشن پالیسی ڈویلپمنٹ (ICMPD) کی ڈائریکٹر جنرل سوزان راب نے قانونی مائیگریشن اور افرادی قوت کی نقل و حرکت کے مؤثر راستے تیار کرنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ دو روزہ اجلاس میں ترکی، ہنگری، اٹلی، یورپی یونین، بین الاقوامی تنظیموں اور نجی شعبے کے نمائندے اور سفارت کار شرکت کر رہے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments