حیدر آباد:لیاقت یونیورسٹی اسپتال زبوں حالی کا شکار

حیدر آباد:لیاقت یونیورسٹی اسپتال زبوں حالی کا شکار

مریضوں کیلئے ادویات موجود نہیں، پتھالوجی اور ریڈیالوجی ٹیسٹ بھی نایاب3سی ٹی اسکین مشینیں خراب، 15اضلاع، بلوچستان سے آنیوالے مریض پریشان

حیدرآباد (بیورو رپورٹ)سندھ کا دوسرا بڑا سرکاری لیاقت یونیورسٹی اسپتال زبوں حالی کا شکار ہے ، مریضوں کو ادویات نہیں دی جارہی ہیں، پتھالوجی اور ریڈیالوجی ٹیسٹ بھی نہ ہونے کے برابر ہیں، سی ٹی اسکین مشینیں خراب پڑی ہیں ۔ سول اسپتال حیدرآباد اور جامشورو جس کی لوکل پرچیز ادویات ، مرمت ، خوراک اور دیگر مد کا سالانہ بجٹ 4ارب روپے ہے ، اسپتال کے موجودہ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو ہر تین ماہ کے حساب سے چار کوارٹرز یعنی سال کا بجٹ چار ارب روپے جاری کیا جاچکا، لیکن اسپتال کی صورتحال یہ ہے کہ تین سی ٹی اسکین مشینیں خراب ہیں، پتھالوجی ٹیسٹ سامان نہ ہونے سے برائے نام کئے جارہے ہیں ، اسپتال میں سندھ کے 15اضلاع اور بلوچستان سے آنیوالے مریضوں کو ادویات نہیں مل رہیں اور وہ پرائیویٹ میڈیکل اسٹور سے مہنگی دوا خرید کر لانے پر مجبور ہیں۔

اسپتال کو عملی طورپر لاڑکانہ سے آیا ہوا فارمیسسٹ چلارہا ہے ، اس سے قبل بھی اسپتال کو اسی طرح چلایا جاتا رہا، جس کے باعث شہری اور دیہی علاقوں کے غریب عوام کو طبی سہولیات فراہم کرنے والا یہ سرکاری اسپتال تیزی سے تباہی کی طرف پہنچ رہا ہے ۔ دور دراز سے علاج کیلئے آنے والے مریض دھکے کھارہے ہیں ، کئی کئی ہفتے گزر جانے کے باوجود مریضوں کو آپریشن جیسی بنیادی سہولیات بھی فراہم نہیں کی جارہی ہیں۔ حیدرآباد کے شہریوں نے صوبائی وزیر صحت، سیکریٹری صحت سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سول اسپتال میں کی جانے والی بدعنوانی اور اقربا پروری کا نوٹس لیا جائے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں