زیریں سندھ:گرد آلود طوفانی ہواؤں سے معمولات شدید متاثر
بحیرہ عرب کی ہواؤں سے مواصلاتی نظام کو نقصان، الرجی، دمے کے مریض پریشانسڑکوں پرحدنگاہ کم، کاروباری سرگرمیاں ماند، روز مرہ امور کی انجام دہی میں مشکل
پنگریو(نمائندہ دنیا)زیریں سندھ کے مختلف علاقوں میں بحیرہ عرب سے آنے والی تیز سمندری ہواؤں کے باعث گردوغبار کی شدید کیفیت پیدا ہوگئی، جس نے کئی مقامات پر مٹی کے طوفان کی شکل اختیار کرلی۔ گرد آلود تیز ہواؤں کے باعث معمولاتِ زندگی متاثر ہوئے ، سڑکوں پر حدِ نگاہ کم ہوگئی، کاروباری سرگرمیوں میں کمی واقع ہوئی جبکہ شہریوں کو روزمرہ امور کی انجام دہی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ماہرین کے مطابق یہ موسمی عمل کئی دہائیوں سے خطے کا حصہ ہے تاہم حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں اور درجہ حرارت میں اضافے کے باعث اس کی شدت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
شدید ہواؤں کے باعث متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی جبکہ مواصلاتی رابطوں میں بھی جزوی تعطل کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ کئی مقامات پر درختوں کی شاخیں ٹوٹ گئیں اور پھلدار باغات کو نقصان پہنچا۔ باغبانوں کے مطابق آم، امرود، کیلے اور دیگر پھلوں کے باغات میں کچے پھل گرنے سے مالی نقصان کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے ۔ جبکہ کسانوں نے کپاس، سبزیوں اور دیگر کھڑی فصلوں پر بھی منفی اثرات کی نشاندہی کی ہے ۔ گردوغبار کے باعث سرکاری و نجی اسپتالوں، دیہی مراکز صحت اور کلینکس میں آشوبِ چشم، ڈسٹ الرجی، دمہ، سانس کی تکالیف، کھانسی اور گلے کی سوزش کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرینِ صحت کے مطابق فضا میں موجود باریک گرد کے ذرات انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں اور یہ آنکھوں، ناک، گلے اور پھیپھڑوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔