دوائیں غیر محفوظ طریقے سے تلف کرنے کا رجحان

دوائیں غیر محفوظ طریقے سے تلف کرنے کا رجحان

86فیصد افراد زائد المیعاد ادویات گھریلو کچرے میں پھینک دیتے ہیں،سروے صحت کے مسائل اجاگر کرنا جامعات کی ذمے داری ، پروفیسر امجد سراج میمن

کراچی(این این آئی) جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف فارماسیوٹیکل سائنسز کی جانب سے کی گئی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ کراچی کے رہائشی بڑی تعداد میں زائد المیعاد اور غیر استعمال شدہ ادویات کو غیر محفوظ طریقے سے تلف کر رہے ہیں، جو ماحولیاتی اور صحتِ عامہ کے لیے تشویشناک ہے ۔یہ تحقیق الائیڈ میڈیکل ریسرچ جرنل میں شائع ہوئی۔ اس سروے میں کراچی کے مختلف علاقوں سے 2000 بالغ افراد کو شامل کیا گیا تاکہ ادویاتی فضلے کے بارے میں عوامی آگاہی اور رویوں کا جائزہ لیا جا سکے ۔ نتائج کے مطابق 86 فیصد افراد زائد المیعاد یا غیر استعمال شدہ ادویات کو گھریلو کچرے میں پھینک دیتے ہیں، جبکہ 8 فیصد انہیں نالیوں یا بیت الخلا میں بہا دیتے ہیں۔ صرف 4 فیصد افراد کو ادویات واپس جمع کرنے (ٹیک بیک) پروگرامز کا علم تھا، جبکہ 96 فیصد اس نظام سے ناواقف پائے گئے ۔وائس چانسلر جے ایس ایم یو پروفیسر امجد سراج میمن نے کہا کہ یہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح تعلیمی تحقیق عوامی صحت اور ماحول کو متاثر کرنے والے نظر انداز شدہ مسائل کی نشاندہی کر سکتی ہے ۔انہوں نے کہا جامعات کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے شواہد پیدا کریں جو بہتر پالیسیوں اور صحت مند معاشروں کی تشکیل میں مدد دیں۔ یہ تحقیق ایک اہم مگر نظر انداز شدہ مسئلے کو اجاگر کرتی ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں