وفاقی بجٹ میں غریب عوام، محنت کش یکسر نظر انداز، واپڈا یونین
مہنگائی کے تناسب سے تنخواہ وپنشن میں 7فیصد اضافہ انتہائی ناکافی، لطیف نظامانیمحنت کشوں، عوام کی اشک شوئی کیلئے کم ازکم تنخواہ وپنشن 30فیصد بڑھائی جائے
حیدر آباد (بیورو رپورٹ)حکومت کی جانب سے پیش بجٹ میں محنت کشوں اور غریب عوام کو یکسر نظر انداز کیا گیا، سرکاری ملازمین کی تنخواہ و پنشن میں 7فیصد اضافہ انتہائی ناکافی اور مہنگائی کے تناسب میں بالکل ناموزوں ہے ، جسے ملک بھر کے محنت کش مسترد کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ تنخواہوں اور پنشنوں میں کم از کم 25-30فیصد تک اضافہ کیا جائے تاکہ غریب محنت کش اور عوام کی اشک شوئی ہوسکے ۔ ان خیالات کا اظہار آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین سی بی اے اور آل پاکستان فیڈریشن آف ٹریڈ یونین کے مرکزی صدر عبداللطیف نظامانی نے لیبر ہال میں یونین کے صوبائی نمائندگان سے حکومت کی جانب سے پیش نئے مالیاتی بجٹ پر ایک ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر یونین کے صوبائی جنرل سیکریٹری اقبال احمد خان، اعظم خان ، محمد حنیف خان ، الادین قائمخانی اور نور احمد نظامانی بھی اجلاس میں موجود تھے ۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قائد مزدور عبداللطیف نظامانی نے مزید کہا کہ اس ملک کو چلانے والے محنت کش کارکن جانفشانی سے خدمات انجام دے رہے ہیں، ملک کے سخت ترین گرم موسم کی پروا کئے بغیر ملک کی معیشت کا پہیہ چلارہے ہیں، ایسے میں پیش کردہ بجٹ میں تنخواہوں اور پنشنوں میں 7 فیصد اضافہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔