لاپتا افراد کے مقدمات فوری درج کرنے کا حکم
گمشدگی کے مقدمات درج نہ کرنے پر عدالت پولیس کی کارکردگی پر برہم لاپتہ افراد کے اہلخانہ کو مقدمات کے لیے متعلقہ تھانوں سے رجوع کی ہدایت
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے 15 لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران شہریوں کی گمشدگی کے مقدمات درج نہ کیے جانے پر پولیس کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعدد لاپتہ افراد کے مقدمات فوری طور پر درج کرنے کا حکم دے دیا۔ جسٹس محمد سلیم جیسر کی سربراہی میں آئینی بینچ نے درخواستوں کی سماعت کی۔ دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ جو شہری لاپتہ ہیں ان کی گمشدگی کے مقدمات درج کیوں نہیں کیے جا رہے ۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ حاکم علی شیخ نے عدالت کو بتایا کہ گمشدہ افراد کے اہلخانہ نے مقدمات کے اندراج کے لیے متعلقہ پولیس تھانوں سے رجوع ہی نہیں کیا۔
اس پر عدالت نے لاپتہ افراد کے اہلخانہ کو ہدایت کی کہ وہ مقدمات کے اندراج کے لیے متعلقہ تھانوں سے رجوع کریں تاکہ قانونی کارروائی کا آغاز کیا جا سکے ۔ عدالت نے تھانہ گلشن اقبال کی حدود سے لاپتہ ہونے والے فراز علی، تھانہ پاپوش نگر کے علاقے سے لاپتہ شہری اظہرالدین اور موچکو کے علاقے سے لاپتہ دیدار حسین کی گمشدگی کے مقدمات درج کرنے کی ہدایت جاری کی۔ جسٹس محمد سلیم جیسر نے ریمارکس دیے کہ جن شہریوں کی گمشدگی کے مقدمات درج ہو چکے ہیں، انہیں تلاش کرنے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔