ملازمت کے آخری روز سے پنشن دینے کا فیصلہ
یکم جنوری 2027 سے ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین کو ملازمت کے آخری روز ہی بنیادی واجبات کی ادائیگی یقینی بنائی جائے گی،چیف سیکریٹری سیکریٹری سروسز کی سربراہی میں بین المحکماتی ٹاسک فورس قائم کرنے کا فیصلہ ، 3 ماہ میں زیر التوا پنشن کیسز نمٹائے جائیں،آصف حیدر شاہ کی ہدایت
کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ حکومت نے یکم جنوری 2027 سے ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین کو ملازمت کے آخری روز ہی پنشن اور بنیادی مالی واجبات کی ادائیگی یقینی بنانے کا فیصلہ کیا ہے ، جبکہ صوبائی محکموں کو 3 ماہ کے اندر تمام زیر التوا پنشن کیسز اور بل نمٹانے کی ہدایت کردی گئی۔چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی زیر صدارت سندھ سیکریٹریٹ میں پنشن اور سرکاری ملازمین کے میڈیکل اخراجات کی واپسی کے نظام میں بہتری سے متعلق اجلاس ہوا، جس میں اکاؤنٹنٹ جنرل سندھ، سیکریٹری خزانہ، سیکریٹری سروسز، سیکریٹری صحت، سیکریٹری جنرل ایڈمنسٹریشن اور سیکریٹری امپلی منٹیشن اینڈ کوآرڈی نیشن سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں چیف سیکریٹری نے اکاؤنٹنٹ جنرل سندھ اور سیکریٹری خزانہ کو ہدایت کی کہ ریٹائر ہونے والے ملازمین کو پنشن اور دیگر مالی واجبات کی بروقت ادائیگی یقینی بنائی جائے ۔ انہوں نے تمام انتظامی محکموں کو آئندہ 3 ماہ میں زیر التوا پنشن کیسز اور بل مکمل طور پر نمٹانے کی ہدایت کی۔چیف سیکریٹری نے یکم جنوری 2027 سے ایسا نظام نافذ کرنے کی ہدایت کی جس کے تحت سرکاری ملازم کو ریٹائرمنٹ کے آخری روز ہی پنشن اور بنیادی مالی واجبات ادا کیے جاسکیں۔ اس سلسلے میں سیکریٹری سروسز کی سربراہی میں بین المحکماتی ٹاسک فورس قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، جس میں اکاؤنٹنٹ جنرل سندھ، محکمہ خزانہ، صحت، جنرل ایڈمنسٹریشن اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندے شامل ہوں گے۔
ٹاسک فورس موجودہ طریقہ کار کا جائزہ لے کر مربوط نظام وضع کرے گی اور ضرورت پڑنے پر قواعد میں ترامیم بھی تجویز کرے گی۔ چیف سیکریٹری نے حتمی فریم ورک ایک ہفتے میں پیش کرنے کی ہدایت کردی۔اجلاس میں سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کے میڈیکل اخراجات کی واپسی کے معاملات میں تاخیر کا بھی جائزہ لیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ نامکمل دستاویزات، میڈیکل بورڈز سے تصدیق میں تاخیر اور سرکاری اسپتالوں سے عدم دستیابی کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے میں مشکلات کے باعث میڈیکل کلیمز کی ادائیگی میں تاخیر ہوتی ہے ۔چیف سیکریٹری سندھ نے کہا کہ میڈیکل کلیمز میں تاخیر کی بنیادی وجہ پالیسی یا فنڈز کی کمی کے بجائے انتظامی اور طریقہ کار کی رکاوٹیں ہیں، جنہیں دور کرنا ضروری ہے ۔انہوں نے سیکریٹری جنرل ایڈمنسٹریشن کو ہدایت کی کہ اکاؤنٹنٹ جنرل سندھ، محکمہ خزانہ، سروسز اور دیگر بڑے محکموں کے ساتھ مل کر میڈیکل ری ایمبرسمنٹ کے نظام کا جائزہ لیا جائے ، غیر ضروری کاغذی کارروائی ختم اور کلیمز کی منظوری کا عمل آسان و تیز کیا جائے ۔چیف سیکریٹری نے کہا کہ ایسا سادہ اور مؤثر نظام تشکیل دیا جائے جس کے تحت سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو طبی اخراجات کی واپسی کیلئے غیر ضروری دفتری کارروائی اور طویل انتظار کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments