حادثے میں بچی کی ہلاکت: چارافراد کے خلاف 13 کروڑ 57 لاکھ روپے ہرجانے کا دعویٰ
حادثہ ڈرائیور کی تیز رفتاری، غفلت، لاپروائی اور مناسب احتیاط نہ کرنے کے باعث پیش آیا،وکیل درخواست گزارسینئر سول جج غربی کی عدالت نے سماعت کے بعد فریقین کو 21 اکتوبر کے لئے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا
کراچی (اسٹاف رپورٹر) اورنگی ٹاؤن میں ساڑھے تین سالہ بچی آیت نور کی ٹریفک حادثے میں ہلاکت کے معاملے پر والد اللہ رکھا نے سینئر سول جج غربی کی عدالت میں چار افراد کے خلاف 13 کروڑ 57 لاکھ روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کردیا۔ عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد فریقین کو 21 اکتوبر کے لئے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔ وکیل درخواست گزار عثمان فاروق کے مطابق تین سالہ آیت نور 12 جولائی 2026 کو اورنگی ٹاؤن کے علاقے سیکٹر ساڑھے 11 میں اپنی نانی کے گھر جارہی تھی۔ اسی دوران تیز رفتار ڈبل کیبن گاڑی نے آیت نور کو زور دار ٹکر مار دی، جس کے نتیجے میں بچی سڑک پر گر کر شدید زخمی ہوگئی۔ وکیل درخواست گزار کے مطابق حادثہ مکمل طور پر ڈرائیور کی تیز رفتاری، غفلت، لاپروائی اور مناسب احتیاط نہ کرنے کے باعث پیش آیا، اگر ڈرائیور ذمہ داری اور احتیاط سے گاڑی چلاتا تو حادثہ اور بچی کی موت سے بچا جاسکتا تھا۔
دعوے میں مزید کہا گیا کہ حادثے کے فوری بعد آیت نور کو عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا تاہم طبی معائنے کے بعد اسے مردہ قرار دے دیا گیا، بچی کی موت اچانک، غیر فطری اور حادثے میں لگنے والی چوٹوں کے براہ راست نتیجے میں ہوئی۔ وکیل درخواست گزار کے مطابق واقعے کی ایف آئی آر تھانہ اقبال مارکیٹ میں درج کی گئی ہے ۔ دعوے کے مطابق ڈبل کیبن گاڑی فیاض کی ملکیت تھی جو رینٹ اے کار کے کاروبار کے تحت تجارتی مقاصد کے لیے استعمال ہورہی تھی جبکہ ڈرائیور معاویہ، گاڑی کے مالک کا بھائی ریحان جو کہ حادثے کے وقت گاڑی میں موجود تھا اور گاڑی کے مالک کا شراکت دار حاجی کلیم کو بھی فریق بنایا گیا ہے ۔ وکیل درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ گاڑی کے مالک، کاروباری ذمہ داران اور ڈرائیور حادثے کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کے لیے مشترکہ طور پر ذمہ دار ہیں۔ دعوے میں مستقبل کی مالی معاونت اور آمدن کے نقصان، پیشہ ورانہ ترقی، طبی و اسپتال کے اخراجات کی تدفین اور دیگر رسومات کے اخراجات، صدمے اور ذہنی اذیت کے ہرجانے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ درخواست گزار کی استدعا ہے کہ فریقین کے خلاف 13 کروڑ 57 لاکھ روپے کی ڈگری جاری کی جائے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments