جیکب آباد میں غذائی قلت، سینکڑوں بچے مبتلا، 2انتقال کرگئے
11بچے موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا، جیمس اسپتال کے وارڈ میں گنجائش ختمغذائی قلت کی بنیادی وجہ دورانِ حمل ناقص خوراک، غربت ہے ، ڈاکٹر
جیکب آباد (نمائندہ دنیا)ضلع جیکب آباد بچوں کی شدید غذائی قلت کی لپیٹ میں آ چکا ہے ۔ معصوم اور نوخیز بچوں میں خوراک کی شدید کمی کے باعث نہ صرف سینکڑوں بچے مختلف مہلک بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں، بلکہ اب تک 2معصوم بچے تڑپ تڑپ کر فوت ہو چکے ہیں۔ سرکار اور محکمہ صحت کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق سندھ میں غذائی قلت کے سب سے زیادہ اور تشویشناک کیسز ضلع جیکب آباد سے رپورٹ ہو رہے ہیں۔بڑے طبی ادارے جیکب آباد انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں غذائی قلت سے متاثرہ بچوں کیلئے قائم کردہ نیوٹریشن وارڈ میں 11معصوم بچے انتہائی تشویشناک حالت میں زیرِ علاج ہیں، جن کی زندگیوں کو بچانے کیلئے طبی عملہ کوشاں ہے۔
دیہی اور شہری علاقوں سے روزانہ دسیوں بچے ڈھانچہ بنے ہسپتالوں میں لائے جا رہے ہیں، جس سے طبی سہولیات پر شدید دباؤ آ چکا ہے ۔غذائی قلت کے اس پھیلتے خطرناک بحران پر گفتگو کرتے ہوئے معروف ماہرِ امراضِ اطفال ڈاکٹر در محمد سومرو نے بتایا کہ غذائی قلت کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ دورانِ حمل ماؤں کی ناقص خوراک، غربت اور آگاہی کی شدید کمی ہے ۔ جب ماں خود غذائیت کی کمی کا شکار ہوتی ہے تو پیٹ میں پلنے والا بچہ بھی پیدائشی طور پر شدید کمزور اور خوراک کی کمی لے کر پیدا ہوتا ہے ۔ مناسب نگہداشت اور طبی خوراک نہ ملنے سے ایسے معصوم بچے چند ہی مہینوں میں مختلف بیماریوں کا شکار ہو کر دم توڑ جاتے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments