یلو لائن بے ضابطگیاں،سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر کی ضمانت

یلو لائن بے ضابطگیاں،سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر کی ضمانت

ایک کروڑ روپے کے ضمانتی مچلکے اور پرسنل بانڈ کے عوض رہا کرنے کا حکم گرفتاری کے لیے مقررہ قانونی طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا،سندھ ہائیکورٹ

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائیکورٹ نے یلو لائن بی آر ٹی منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں گرفتار سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کی ضمانت منظور کرلی۔ جسٹس میران محمد شاہ نے جاری تفصیلی حکم نامے میں قرار دیا کہ اینٹی کرپشن قوانین کے تحت مقدمے کی انکوائری، ایف آئی آر کے اندراج اور ملزم کی گرفتاری کے لیے مقررہ قانونی طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا، جو ضمانت دینے کے لیے کافی بنیاد ہے ۔ عدالت نے قرار دیا کہ چیف منسٹر انسپیکشن ٹیم کو کسی سرکاری ملازم کے خلاف اینٹی کرپشن معاملے میں ازخود انکوائری یا تحقیقات شروع کرنے کا اختیار حاصل نہیں، بلکہ قانون کے مطابق یہ اختیار اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے پاس ہے ۔ عدالت نے قرار دیا کہ موجودہ کیس میں چیف منسٹر انسپیکشن ٹیم نے مکمل تحقیقات کیں اور بعد میں معاملہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے حوالے کیا گیا، تاہم قانون میں مقررہ طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا۔ عدالت کے مطابق ضمیر عباسی گریڈ 21 کے افسر تھے اور ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے رولز کے تحت مجاز اتھارٹی کی منظوری کا تقاضا تھا، مگر کیس میں قانونی طریقہ کار پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔عدالت نے قرار دیا کہ مقدمے کی تحقیقات میں کئی خامیاں موجود ہیں اور ملزم کے خلاف بادی النظر میں ایسا مقدمہ نہیں بنتا جس کی بنیاد پر اسے مزید حراست میں رکھا جائے۔ عدالت نے ضمیر عباسی کو ایک کروڑ روپے کی ضمانتی مچلکے اور پرسنل بانڈ کے عوض ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے تفتیشی ادارے کو ہدایت کی کہ ضرورت محسوس ہونے پر ملزم کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کے لیے وزارت داخلہ سے رجوع کیا جاسکتا ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...