سخی حسن قبرستان پر چائنا کٹنگ کی کوشش ناکام

سخی حسن قبرستان پر چائنا کٹنگ کی کوشش ناکام

بلدیہ عظمیٰ اور ضلعی انتظامیہ نے مشترکہ کارروائی کے دوران قبرستان کی باؤنڈری وال کے ساتھ سڑک پر راتوں رات تعمیر کی گئی 18جعلی قبریں مسمار کردیں قبرستان کی زمین ہتھیا نے میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی،کے ایم سی حکام نے تفصیلی رپورٹ تیار کر کے میئر کو بھی ارسال کر دی

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)سخی حسن قبرستان پر چائنا کٹنگ کی کوشش ناکام بناتے ہوئے سڑک پر بنائی گئی 18 جعلی قبروں کو مسمار کردیا گیا۔تفصیلات کے مطابق بلدیہ عظمیٰ کراچی اور ضلعی انتظامیہ نے ایک مشترکہ کارروائی کے دوران سخی حسن قبرستان کی باؤنڈری وال کے ساتھ سڑک پر راتوں رات تعمیر کی گئی 18 جعلی قبروں کو مسمار کر کے چائنا کٹنگ اور قبضے کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔ڈائریکٹر گریویارڈ اقبال پرویز نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ سخی حسن قبرستان مکمل بھر جانے کے باعث وہاں تدفین کا سلسلہ پہلے ہی باقاعدہ طور پر بند ہے ۔اس کے باوجود قبضہ مافیا نے رات کے اندھیرے میں سڑک پر 18 جعلی قبریں بنا کر زمین پر قبضے کی کوشش کی، جسے کے ایم سی کے شعبہ گریویارڈ اور انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے گرا دیا۔ڈائریکٹر گریویارڈ نے کہا کہ سڑک پر جعلی قبریں تعمیر کر کے زمین ہتھیا نے میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔اس کے علاوہ قبرستان میں چائنا کٹنگ اور قبضہ مافیا کی اس کوشش کے حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ تیار کر کے میئر کراچی کو بھی ارسال کر دی گئی ہے ۔ یاد رہے کہ رواں سال چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی زیرِ صدارت اجلاس میں کراچی میں قبرستان کی جگہ کی کمی کو پورا کرنے کیلئے اہم فیصلہ کیا گیا تھا۔

چیف سیکریٹری نے کمشنر کراچی کو قبرستان کیلئے 2500 ایکڑ زمین کی نشاندہی کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو ماسٹر پلان میں قبرستان کیلیے جگہ مختص کرنے کا پابند کیا جائے ۔اس سے قبل قبرستانوں میں تدفین کیلئے سرکاری نرخ مقرر کیے گئے تھے اور خبردار کیا گیا تھا کہ کسی نے مقررہ نرخ سے زائد رقم وصول کی تو کارروائی کی جائے گی۔بلدیہ عظمیٰ کراچی کے قبرستانوں میں کے ایم سی کے قوانین اور مقررہ نرخ پر عملدرآمد شروع کیا گیا تھا۔ میئر مرتضیٰ وہاب نے بتایا تھا کہ رجسٹرڈ قبرستانوں میں تدفین کیلیے 14300 روپے مقرر کر دیے ، قبرستانوں میں کام کرنے والوں کو مقررہ قیمت پر کام کرنے کا پابند بنا دیا گیا۔قبروں کو مسمار کرنے والی مافیا کے خلاف کارروائی شروع کی گئی تھی اور کسی کو کے ایم سی کی رجسٹریشن کے بغیر قبرستان میں کام کرنے کی اجازت نہیں۔اس سے چند ہفتوں قبل کراچی میں بلدیہ عظمیٰ کے قبرستانوں میں تدفین کے اخراجات 9000 روپے تک ہیں لیکن عام طور پر شہریوں سے 35 ہزار روپے تک وصول کیے جانے کا انکشاف ہوا تھا جبکہ دیگر اخراجات اس کے علاوہ ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...