عادی گراں فروشوں کو گرفتار اور دکانیں سربمہر کرنے کا فیصلہ
ایک ہفتہ میں 490 گراں فروشوں پرمجموعی طور پر 20 لاکھ 99ہزار روپے سے زائد جرمانہ عائد ،618دکانداروں کو تنبیہکمشنر کی زیرصدارت اجلاس میں تجاوزات کے خاتمے ، ہوٹل سیٹنگز اور پیشہ ور بھکاریوں کے خلاف مہم کے اقدامات کا جائزہ
کراچی(اسٹاف رپورٹر )کمشنر کراچی سید حسن نقوی کی زیر صدارت ان کے دفتر میں ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کا اجلاس منعقد ہو ا اجلاس میں ایڈیشنل کمشنر ون غلام مہدی شاہ، ایڈیشنل کمشنر ٹو عاطف جالب اسسٹنٹ کمشنر ہیڈ کوارٹرز اقرا جنت اور اسسٹنٹ کمشنر جنرل وقاص عباسی اور دیگر نے بھی موجود تھے ۔ اجلاس میں گراں فروشی کی روک تھام تجاوزات کے خاتمے، ہوٹل سیٹنگز اور پیشہ ور بھکاریوں کے خلاف مہم اورتعلیم صحت اور ترقیات سمیت مختلف شہری سہولتوں سے متعلق سروس ڈلیوری کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا اور ان کوششوں کو بہتر اور موثر بنانے کے لئے اہم فیصلے کئے گئے۔
اجلاس میں ڈپٹی کمشنرز نے کارروائیوں کی تفصیلات پیش کیں اور تجاویز پیش کیں۔ کمشنر نے ان کارروائیوں کو نتیجہ خیز بنانے کے لئے مؤثر اقدامات کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ گراں فروشی کے مرتکب عادی افراد کے خلاف بلا رعایت کارروائی کی جائے ،گراں فروشی کے عادی افراد رعایت کے مستحق نہیں ۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ عادی گراں فروشوں کو گرفتار کیا جائے گا اور دکانیں سربمہر کی جائیں گی ۔ ایک ہفتہ میں 490 گراں فروشوں پر جرمانے عائد کئے گئے ۔ مجموعی طور پر ایک ہفتہ میں 20 لاکھ 99ہزار روپے سے زائد جرمانہ عائد کیا گیا جبکہ 618 دکانداروں کو تنبیہ کی گئی، گراں فروشی پر پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا۔
اجلاس میں گراں فروشی کے مرتکب افراد کو قانون میں موجود زیادہ سے زیادہ سزا پر عمل کرنے پر غور کیا گیا ۔اجلاس میں انسداد تجاوزات اور ہوٹل سیٹنگز کے خلاف جاری کارروائیوں کا بھی جائزہ لیا گیا ۔ڈپٹی کمشنرز نے اجلاس کو بتایا کہ بیشتر روڈ سائیڈ ہوٹلز نے مطلوبہ حلف نامہ جمع کرادیے ہیں، جنہوں نے حلف نامے جمع نہیں کرائے ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جاری ہے ۔گراں فروشوں کے خلاف سب سے زیادہ کارروائیاں ضلع وسطی میں کی گئیں۔ ڈپٹی کمشنر طحہ سلیم کے مطابق مجموعی طور ایک ہفتہ میں ضلع وسطی میں 123 گراں فروشوں پر 5 لاکھ 20 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا جبکہ 10 دکانیں سیل کی گئیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments