ٹریفک دباؤ کم کرنے کیلئے5سڑکچر پلان سڑکوں کی تعمیر التوا کا شکار
منصوبے کو عملی شکل دینے میں سب سے بڑی رکاوٹ پرائیویٹ افراد سے زمین کے حصول میں پیش آنے والی مشکلات ٹھہریںپانچوں سٹرکچر پلان روڈز کیلئے مجموعی طور پر 861کنال اراضی درکار ،تعمیراتی کام شروع نہ ہونے سے منصوبہ ٹھپ ہونیکا خدشہ
لاہور (شیخ زین العابدین)لاہور میں ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے ایل ڈی اے نے پانچ سٹرکچر پلان روڈز بنانے کا منصوبہ تو بنا لیا،مگر زمین کے حصول میں تاخیر نے اس منصوبے کو کاغذوں تک محدود کر دیا ہے ۔پالیسی موجود ہے ، کمیٹی بھی قائم ہے ، لیکن ذمہ داریاں طے نہ ہونے کے باعث تعمیراتی کام آگے نہیں بڑھ پا رہا۔ ذرائع کے مطابق لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے شہر میں پانچ سٹرکچر پلان روڈز کی تعمیر کا منصوبہ بنایا گیا ہے ، جس کا مقصد شہری ٹریفک کے مسائل کو کم کرنا اور مستقبل کی آبادی کے دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے متبادل راستے فراہم کرنا ہے ۔تاہم اس منصوبے کو عملی شکل دینے میں سب سے بڑی رکاوٹ پرائیویٹ افراد سے زمین کے حصول میں پیش آنے والی سنگین مشکلات بن گئی ہیں۔ذرائع کے مطابق زمین کے حصول کے لیے پالیسی تو بنا دی گئی ہے ، مگر عملی سطح پر پیش رفت نہ ہونے کے برابر ہے ۔
اسی مقصد کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی، لیکن تاحال یہ طے نہیں ہو سکا کہ کمیٹی کے اراکین کے اختیارات اور ذمہ داریاں کیا ہوں گی، جس کے باعث زمین کے حصول کا عمل تعطل کا شکار ہے ۔ذرائع بتاتے ہیں کہ ہاؤسنگ، ٹاؤن پلاننگ، چیف میٹرو پولیٹن پلاننگ اور انجینئرنگ ونگ کے درمیان یہ فیصلہ ہی نہیں ہو پا رہا کہ کون سا شعبہ کس مرحلے پر کیا کردار ادا کرے گا۔ ذمہ داریوں کے اسی ابہام نے سٹرکچر پلان روڈز کے منصوبے کو سست روی بلکہ جمود کی طرف دھکیل دیا ہے ۔اعداد و شمار کے مطابق پانچوں سٹرکچر پلان روڈز کے لیے مجموعی طور پر 861 کنال اراضی درکار ہے ۔نیلم روڈ سٹرکچر پلان روڈ کے لیے 448 کنال اراضی درکار ہے ،ایکسپو سینٹر سے خیابان جناح تک سٹرکچر پلان روڈ کے لیے 246 کنال زمین حاصل کرنا ضروری ہے ۔اسی طرح شادیوال سے نظریہ پاکستان روڈ تک سٹرکچر پلان روڈ کے لیے 10 کنال اراضی درکار ہے ،بھلہ چوک سے ڈاکٹرز ہسپتال تک بننے والی سٹرکچر پلان روڈ کے لیے 42 کنال زمین چاہیے ،جبکہ ایکسپو سینٹر سے رنگ روڈ تک سٹرکچر پلان روڈ کے لیے 115 کنال اراضی درکار ہے ۔زمین کے حصول میں مسلسل تاخیر کے باعث سٹرکچر پلان روڈز پر تعمیراتی کام شروع نہ ہو سکا، جس کے نتیجے میں منصوبے کے عملاً ٹھپ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے ۔