چائلڈ لیبر : 60لاکھ بچے مختلف شعبوں میں کام کرنے مجبور
لاہور(عاطف پرویز سے )پنجاب میں چائلڈ لیبر ایک سنگین سماجی مسئلہ بن چکا ہے جہاں لاکھوں بچے مزدوری پر مجبور ہیں، جبکہ اس کے خاتمے کیلئے حکومتی اقدامات سست روی کا شکار ہیں۔ دستاویزا ت کے مطابق 5سے 14سال کی عمر کے 60لاکھ سے زائد بچے مختلف شعبوں میں کام کر رہے ہیں، جو صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے ۔ ۔۔۔
چائلڈ لیبر کے خاتمے کیلئے تیار کیا گیا ایکشن پلان 2025 تاحال نافذ نہیں ہو سکا، جس کی بڑی وجہ فنڈز کی عدم دستیابی بتائی جا رہی ہے ۔ اسی طرح ری ہیبیلیٹیشن سینٹرز کے قیام کا منصوبہ بھی تاخیر کا شکار ہے ، جس کے باعث متاثرہ بچوں کی بحالی کا عمل متاثر ہو رہا ہے ۔ رپورٹس کے مطابق چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے محدود وسائل کے باعث صرف سنگین نوعیت کے کیسز پر توجہ دی جا رہی ہے ۔حکام کا کہنا ہے کہ چائلڈ لیبر کے خاتمے کیلئے فیملی انڈومنٹ فنڈ کے قیام، چائلڈ لیبر کورٹس کو فعال بنانے اور ری ہیبیلیٹیشن سینٹرز کیلئے دوبارہ فنڈز کے حصول کی کوششیں جاری ہیں۔