12دینی مدارس کی اسناد میٹرک،انٹر کے مساوی قرار
نظام کے تحت شامل اداروں کی مجموعی تعداد 26ہوجائے گی
ملتان(شاہد لودھی سے) 12 دینی مدارس کی اسناد کو میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے مساوی قرار دینے کی سفارش تفصیل کے مطابق دینی مدارس کے تعلیمی اداروں کی اسناد کو سیکنڈری سکول سرٹیفکیٹ اور ہائر سیکنڈری سکول سرٹیفکیٹ کے مساوی قرار دینے کی سفارش کردی گئی ہے ، جس کے بعد دینی مدارس کی اسناد کو عصری تعلیمی نظام سے جوڑنے کا دائرہ مزید وسیع ہونے کا امکان ہے ۔ذرائع کے مطابق یہ سفارش انٹر بورڈز کوآرڈی نیشن کمیشن اجلاس میں کی گئی ۔اس فیصلے کے تحت مزید 12 دینی مدارس کو مساوی تعلیمی اسناد کے دائرہ کار میں شامل کرنے کی سفارش سامنے آئی ہے ، جس سے اس نظام کے تحت شامل اداروں کی مجموعی تعداد 26 تک پہنچ جائے گی دینی مدارس کی اسناد کو عصری تعلیمی نظام میں مساوی حیثیت دینے کا مقصد مدارس کے طلبہ کے لئے اعلیٰ تعلیم اور دیگر تعلیمی مواقع تک رسائی کو آسان بنانا ہے اس عمل کے ذریعے دینی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو اپنی تعلیمی قابلیت کو باقاعدہ سکول اور کالج کی سطح کی اسناد کے ساتھ منسلک کرنے کا راستہ فراہم کیا جاتا ہے ۔مدارس کی اسناد کی مساوات کی مختصر تاریخ پاکستان میں دینی مدارس کی اسناد کو عصری تعلیمی نظام سے منسلک کرنے کا عمل کئی برسوں سے جاری ہے بعض دینی مدارس اور وفاقوں کو 2005 سے مساوی اسناد کے لئے تسلیم کیا گیا، جبکہ متعدد دیگر اداروں کو بعد کے برسوں میں، خصوصاً 2021 میں، اس نظام میں شامل کیا گیا اس سلسلے میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان، تنظیم المدارس اہل سنت، وفاق المدارس السلفیہ، رابطۃ المدارس الاسلامیہ اور وفاق المدارس الشیعہ سمیت مختلف دینی تعلیمی ادارے پہلے ہی آئی بی سی سی کے تسلیم شدہ اداروں میں شامل ہیں ۔اس کے علاوہ بعض انفرادی جامعات اور مدارس کو بھی تسلیم شدہ اداروں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے ۔موجودہ قواعد کے تحت شہادۃ الثانویہ العامہ (شہادۃ عامہ) کو بعض مقررہ شرائط پوری کرنے کے بعد کو سیکنڈری سکول سرٹیفکیٹ کے مساوی جبکہ شہادۃ الثانویہ الخاصہ (شہادۃ خاصہ) کو مقررہ اضافی مضامین مکمل کرنے کی صورت میں ہائر سیکنڈری سکول سرٹیفکیٹ کے مساوی قرار دیا جاتا ہے آئی بی سی سی کے مطابق عامہ کے لیے اردو، انگریزی اور پاکستان اسٹڈیز جبکہ خاصہ کے لیے اردو، انگریزی اور دو اختیاری مضامین کی متعلقہ سطح پر تکمیل ضروری ہوتی ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments