کانسٹیبل پر جعلی سند کا الزام جھوٹا ثابت درخواست گزار کو10 لاکھ ہرجانہ

کانسٹیبل پر جعلی سند کا الزام جھوٹا ثابت  درخواست گزار کو10 لاکھ ہرجانہ

بورے والا (نمائندہ دنیا)تھانہ ماڈل ٹاؤن میں تعینات کانسٹیبل مختار احمد پر جعلی تعلیمی سند کا الزام لگانے والے۔۔۔

 کانسٹیبل احمد علی کے خلاف عدالت نے دس لاکھ روپے ہرجانے کی ڈگری جاری کر دی۔تفصیلات کے مطابق نواحی گاؤں 289/ای بی کے رہائشی کانسٹیبل احمد علی نے اپنے گاؤں کے کانسٹیبل مختار احمد کے خلاف ڈی پی او وہاڑی اور محکمہ اینٹی کرپشن کو درخواستیں دے کر اس کی میٹرک کی سند جعلی قرار دیتے ہوئے انکوائری کا مطالبہ کیا تھا۔ انکوائری کے دوران متعلقہ تعلیمی بورڈ سے سند کی تصدیق کے بعد درخواستوں کو بے بنیاد قرار دے دیا گیا۔ اس پر مختار احمد نے سابق جنرل سیکرٹری بار محمد رحمان کھوکھر ایڈووکیٹ کے ذریعے سول عدالت میں ڈیڑھ کروڑ روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا۔ سول جج ہمایوں پرویز نے فریقین کے شواہد اور وکلا کے دلائل سننے کے بعد کانسٹیبل احمد علی کے خلاف دس لاکھ روپے ہرجانے کی ڈگری جاری کرتے ہوئے یہ رقم مختار احمد کو ادا کرنے کا حکم دے دیا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...